امریکی وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو اعلان کیا کہ برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر اور امریکی سینیٹر مارکو روبیو غزہ کی تعمیر نو کی نگرانی کے لیے قائم ہونے والے "بورڈ آف پیس” کے بانی ایگزیکٹو ممبران میں شامل ہوں گے۔ اس بورڈ کا مقصد جنگ کے بعد متاثرہ علاقے کی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور عوامی خدمات کی بحالی کو منظم اور شفاف طریقے سے انجام دینا ہے۔
بورڈ کی تشکیل اور مقاصد
غزہ کی بحالی کے لیے عالمی برادری کی جانب سے ایک مشترکہ کوشش کے طور پر "بورڈ آف پیس” کی تشکیل کی گئی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بین الاقوامی فنڈنگ، تکنیکی معاونت اور حکومتی تعاون کو یکجا کر کے جلد از جلد علاقے کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔ بورڈ کے اراکین کو عالمی سطح پر معتبر اور تجربہ کار افراد میں سے منتخب کیا گیا ہے تاکہ منصوبے کی کامیابی کے لیے درکار حکمت عملی اور وسائل فراہم کیے جا سکیں۔
اہم اراکین اور ان کے کردار
بورڈ کے بانی ایگزیکٹو ممبران میں شامل ہیں:
- ٹونی بلیئر – برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم، بین الاقوامی تعلقات اور امن مذاکرات میں وسیع تجربہ رکھنے والے۔
- مارکو روبیو – امریکی سینیٹر، مشرق وسطیٰ کی پالیسی اور انسانی امداد کے امور میں سرگرم۔
- جیرڈ کشنر – سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سفارتی امور کے مشیر، جو فنڈنگ اور سیاسی حمایت کے لیے کلیدی کردار ادا کریں گے۔
- اسٹیو وٹکوف – ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی سفیر، جو علاقائی حکام اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ رابطے کو مضبوط بنائیں گے۔
ان افراد کے ساتھ ساتھ دیگر بین الاقوامی ماہرین اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندے بھی بورڈ میں شامل ہوں گے تاکہ ہر پہلو سے جامع حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
حکومت کی توقعات اور آئندہ اقدامات
امریکی وائٹ ہاؤس نے کہا کہ "بورڈ آف پیس” کے ذریعے غزہ کی بحالی کے لیے درکار مالی وسائل اور تکنیکی معاونت کو مؤثر انداز میں منظم کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، بین الاقوامی برادری سے مزید تعاون کی امید کی جا رہی ہے تاکہ متاثرین کی فوری ضروریات پوری ہو سکیں اور طویل مدتی ترقی کے منصوبے عمل میں لائے جا سکیں۔
عالمی ردعمل
اس اقدام پر متعدد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر متحد ہو کر ہی غزہ کی حقیقی اور پائیدار بحالی ممکن ہے اور اس بورڈ کی تشکیل اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

