عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قطب شمالی کے برفانی خطے تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اس کے نیچے موجود قیمتی قدرتی وسائل پر ملکیت کا ایک نیا اور پیچیدہ تنازعہ جنم لے رہا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت، شمالی قطب اور اس کے گرد و نواح کا بحیرہ آرکٹک کسی بھی ملک کی ملکیت نہیں ہے۔ تاہم، اس خطے کے گرد و نواح میں واقع پانچ ممالک، جن میں کینیڈا، روس اور گرین لینڈ شامل ہیں، اس پر اپنے دعوے پیش کر رہے ہیں۔
اثاثوں پر نظریں اور عالمی طاقتوں کی سرگرمیاں
یہ تنازعہ صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں بلکہ اس کے نیچے موجود اربوں ڈالر کے تیل، گیس اور دیگر معدنی ذخائر کی وجہ سے مزید سنگین ہو گیا ہے۔ جو بھی ملک اس خطے پر بالآخر اپنا حق تسلیم کروانے میں کامیاب ہوتا ہے، وہ اس کے گرد و نواح کے تقریباً 55,000 مربع میل سمندری علاقے پر بھی دعویٰ کر سکے گا۔
عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے قطب شمالی کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس نے اس خطے کو رسائی کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، دنیا کی بڑی طاقتیں، بشمول امریکہ، روس اور چین، اس خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور ممکنہ طور پر اپنے دعوے مضبوط کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ یہ ممالک مختلف سفارتی اور فوجی حربوں کے ذریعے اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے مستقبل میں بین الاقوامی تعلقات میں مزید کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

