سابق شیڈو وزیر انصاف رابرٹ جینرک کی شیڈو کابینہ سے برطرفی اور اس کے فوراً بعد ریفارم پارٹی میں انحراف کے پس پردہ کئی ماہ کی خفیہ بات چیت، شدید تناؤ اور ایک سنسنی خیز لیک کارفرما تھا۔ یہ ڈرامائی واقعہ کس طرح پیش آیا اور کنزرویٹو پارٹی کے اندرونی حلقوں میں کیا ہلچل مچی رہی، اس کی تفصیلات اب سامنے آ رہی ہیں۔
انتہائی چوکسی کی فضا
ذرائع کے مطابق، رابرٹ جینرک کئی مہینوں سے کنزرویٹو پارٹی چھوڑ کر ریفارم پارٹی میں شمولیت کے حوالے سے زیرِ نگرانی تھے۔ پارٹی قیادت کو ان کے ارادوں کے بارے میں تشویشناک اشارے مل رہے تھے۔ شیڈو وزیر کیمی بیڈنوک کی ٹیم جینرک کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی۔
ایک اندرونی ذریعے نے صورتحال کی نزاکت بیان کرتے ہوئے کہا، "ہم کئی ماہ سے ہائی الرٹ پر تھے۔ ہمیں معلوم تھا کہ پس پردہ کچھ خفیہ بات چیت چل رہی ہے، اور کسی بھی وقت کوئی بڑا سیاسی دھماکہ ہو سکتا ہے۔”
برطرفی کا محرک اور خفیہ منصوبہ
جینرک کی برطرفی کا فوری محرک ان کی خفیہ بات چیت کا انکشاف اور ریفارم پارٹی میں شمولیت کے منصوبے کا سامنے آنا تھا۔ جینرک نے حال ہی میں ایک کانفرنس میں ‘فعالیت پسند’ (activist) ججوں پر سخت تنقید کی تھی، جس سے پارٹی کے اندرونی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی تھی۔
اس کے علاوہ، جینرک شیڈو کابینہ میں ایک اہم عہدہ نہ ملنے پر بھی مایوس تھے، جس نے ان کے انحراف کے ارادوں کو مزید تقویت دی۔ جب ان کے ریفارم پارٹی میں جانے کے منصوبے کی تفصیلات قیادت تک پہنچیں تو انہیں فوری طور پر عہدے سے برطرف کر دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے باضابطہ طور پر ریفارم پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔
سیاسی نتائج اور نمائندگی کا خاتمہ
رابرٹ جینرک کی برطرفی اور اس کے بعد ان کا انحراف کنزرویٹو پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔ اس واقعے کا ایک اہم سیاسی نتیجہ ناٹنگھم شائر کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔
جینرک کے انحراف کے بعد، ناٹنگھم شائر کی پارلیمنٹ میں اب کوئی کنزرویٹو نمائندگی باقی نہیں رہی۔ یہ اس علاقے کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کو نہ صرف اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا سامنا ہے بلکہ وہ اپنے روایتی گڑھ میں بھی سیاسی زمین کھو رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اس پیش رفت کو آئندہ عام انتخابات سے قبل کنزرویٹو پارٹی کے لیے ایک سنگین وارننگ قرار دے رہے ہیں۔

