جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کی ناکام کوشش سے متعلق جرائم پر پانچ سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ جمعہ کے روز ایک جنوبی کوریائی عدالت نے جاری کیا، جس کے بعد وہ مارشل لاء کے اقدام پر سزا پانے والے پہلے سابق صدر بن گئے ہیں۔
الزامات اور عدالتی فیصلہ
عدالت نے یون سک یول کو متعدد الزامات میں قصوروار پایا، جن میں حکومتی اقدامات میں رکاوٹ ڈالنا اور اہم شواہد کو تلف کرنا شامل ہے۔ یہ سزا ان کے 2024 میں جاری کیے گئے حیران کن حکم نامے سے منسلک ہے، جس کے ذریعے انہوں نے ملک میں ہنگامی صورتحال نافذ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم یہ اقدام ناکام ہو گیا تھا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا اور جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، جس سے ملک میں شدید سیاسی بحران پیدا ہوا۔
چار مقدمات میں سے پہلا فیصلہ
یہ فیصلہ سابق صدر یون سک یول کے خلاف مارشل لاء کی کوششوں سے متعلق چار مختلف مقدمات میں سے پہلا ہے۔ ان مقدمات کا تعلق 2024 کے اس صدماتی حکم نامے سے ہے جس پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
باقی تین مقدمات میں بھی جلد ہی فیصلے متوقع ہیں، جن سے سابق صدر کی قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ مقدمہ جنوبی کوریا کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں اعلیٰ ترین عہدے پر فائز شخص کو آئینی خلاف ورزی پر سزا دی گئی ہے۔

