بیجنگ :چین کی وزارت تجارت کی پریس کانفرنس میں ترجمان حہ یا دونگ نے نیویارک میں منعقدہ چین امریکہ اقتصادی و تجارتی مشاورت کے آٹھویں دور کے حوالے سے بتایا کہ فریقین نے دونوں ممالک کے سربراہانِ مملکت کے اہم اتفاقِ رائے کی رہنمائی میں باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور باہمی فائدے کے ساتھ تعاون کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے، پہلے سے طے شدہ اقتصادی و تجارتی مشاورتی اتفاقِ رائے کے نفاذ، باہمی محصولات میں کمی کے انتظامات، تجارتی کونسل اور سرمایہ کاری کونسل کے قیام، کوالالمپور اقتصادی و تجارتی مشاورت کے مشترکہ انتظامات کی توسیع سمیت فریقین کے مشترکہ مفادات کے اقتصادی و تجارتی امور پر کھلی، تفصیلی اور تعمیری گفتگو کی اور متعدد نکات پر اتفاقِ رائے حاصل کیا۔چینی ٹیم کے رہنما ، چین کے نائب وزیر اعظم حہ لی فنگ اور امریکی ٹیم کے رہنما، امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے چین-امریکہ اقتصادی و تجارتی مشاورتی میکانزم کے تحت مصنوعی ذہانت پر پہلی بار گفتگو کی۔ ترجمان نے کہا کہ چین آئندہ مرحلے میں چین-امریکہ اقتصادی و تجارتی مشاورتی میکانزم کے تحت امریکہ کے ساتھ اگلے امور کے حوالے سے قریبی رابطہ برقرار رکھے گا۔

