انگلش پریمیئر لیگ کے میچ کے بعد فٹ بال کی دنیا اس وقت ایک بار پھر افسوسناک صورتحال سے دوچار ہوگئی جب چیلسی کے دفاعی کھلاڑی ویزلی فوفانا اور برنلے کے مڈ فیلڈر ہنی بال میجبری کو سوشل میڈیا پر نسلی تعصب اور تضحیک آمیز جملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے اس بدسلوکی کے خلاف خاموشی توڑتے ہوئے نفرت انگیز رویوں کی شدید مذمت کی ہے اور اسے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات اور فوفانا کا ردعمل
ہفتے کے روز کھیلے گئے پریمیئر لیگ میچ کے اختتام پر دونوں کھلاڑیوں کو آن لائن پلیٹ فارمز پر نسل پرستانہ پیغامات موصول ہوئے۔ چیلسی کے اسٹار ڈیفینڈر ویزلی فوفانا نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک نفرت انگیز پیغام کا اسکرین شاٹ شیئر کیا، جس میں انہیں ان کی نسل کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ فوفانا نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا، "اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو تعلیم دیں”۔ ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ نسل پرستی جہالت کی علامت ہے اور نئی نسل کی بہتر تربیت کے ذریعے ہی اس ناسور کا خاتمہ ممکن ہے۔
ہنی بال میجبری کا موقف
برنلے سے تعلق رکھنے والے ہنی بال میجبری نے بھی ان واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فٹ بال جیسے عالمی کھیل میں، جو لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتا ہے، اس طرح کے متعصبانہ رویوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ میجبری نے اپنے پیغام میں مداحوں اور حکام پر زور دیا کہ وہ نسل پرستی کے خلاف متحد ہو جائیں تاکہ کھلاڑیوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
کلب انتظامیہ اور حکام کا اظہارِ یکجہتی
چیلسی اور برنلے کے فٹ بال کلبوں نے اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کلب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ان افراد کی نشاندہی کر رہے ہیں جنہوں نے یہ پیغامات بھیجے، اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی و تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ پریمیئر لیگ کے ترجمان نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ فٹ بال میں کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور کھلاڑیوں کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔

