سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ کو اب یوکرین میں اپنے غیر جنگی فوجی دستے تعینات کر دینے چاہئیں۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ دستے براہِ راست میدانِ جنگ میں حصہ لینے کے بجائے معاونتی کردار ادا کریں گے۔
غیر جنگی مشن کی تجویز
بورس جانسن کا کہنا تھا کہ برطانوی فوجیوں کو یوکرین کے ان حصوں میں بھیجا جانا چاہیے جو فی الوقت براہِ راست لڑائی کی زد میں نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، ان دستوں کی تعیناتی کا مقصد یوکرینی افواج کو تربیت فراہم کرنا، لاجسٹک سپورٹ دینا اور دیگر غیر جنگی فرائض سرانجام دینا ہونا چاہیے تاکہ یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید تقویت مل سکے۔
دفاعی تعاون میں اضافے کی ضرورت
سابق وزیراعظم، جو یوکرین کے سخت گیر حامی تصور کیے جاتے ہیں، نے زور دیا کہ یوکرین کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اب مزید عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی فوج کی موجودگی سے نہ صرف یوکرینی عوام کے حوصلے بلند ہوں گے بلکہ اس سے روس کو بھی ایک واضح پیغام جائے گا کہ عالمی برادری یوکرین کے ساتھ کھڑی ہے۔
عالمی ردعمل اور اہمیت
بورس جانسن کے اس بیان کو بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے، تاہم برطانوی حکومت کی جانب سے تاحال اس تجویز پر کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی تعیناتی سے تنازع میں شدت آنے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جس کے باعث مغربی ممالک اب تک براہِ راست فوجی موجودگی سے گریز کرتے رہے ہیں۔

