روس کے یوکرین پر حملے کے 1459 ویں روز بھی جنگی سرگرمیاں جاری رہیں اور دونوں جانب سے اہم پیش رفتیں سامنے آئیں۔
دفاعی اور فوجی کارروائیاں
یوکرین کے مختلف علاقوں میں روسی افواج کی جانب سے فضائی حملے اور توپ خانے کا استعمال جاری رہا۔ یوکرینی فضائیہ نے روسی ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرانے کے دعوے کیے ہیں۔ دوسری جانب، روسی وزارت دفاع نے یوکرین کی فوجی تنصیبات اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بنانے کی اطلاعات فراہم کیں۔
بین الاقوامی ردعمل اور سفارتی کوششیں
جنگ کے 1459 ویں روز بھی بین الاقوامی برادری کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فوجی اور مالی امداد کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
انسانی صورتحال اور اثرات
جنگ کے باعث انسانی صورتحال بدستور تشویشناک رہی۔ ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا رہا۔ خوراک، ادویات اور پناہ گاہوں کی قلت نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی۔
اقتصادی اثرات
روس یوکرین جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات بھی نمایاں رہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور افراط زر جیسے مسائل نے دنیا بھر کے ممالک کو متاثر کیا۔

