سوشل میڈیا کی بڑی کمپنی میٹا کی اپنی اندرونی تحقیق نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ والدین کی نگرانی نوعمروں میں سوشل میڈیا کے جنونی استعمال کو کم کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔ اس تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جو نوعمر کسی نفسیاتی صدمے سے گزرے ہوتے ہیں، وہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
تحقیق کے اہم نکات
میٹا کی اس تحقیق نے، جو کمپنی کے اندرونی مقاصد کے لیے کی گئی تھی، سوشل میڈیا کے نوجوانوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، والدین کی جانب سے اپنے بچوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کے باوجود، نوعمروں میں سوشل میڈیا کے ضرورت سے زیادہ اور جنونی استعمال کو روکنے میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملتی۔ یہ بات اس عام تاثر کے برعکس ہے کہ والدین کی فعال شمولیت بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے منفی اثرات سے بچا سکتی ہے۔
تحقیق کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ جن نوعمروں کو ماضی میں کسی قسم کے نفسیاتی صدمات (Trauma) کا سامنا کرنا پڑا ہو، وہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے اور اس کا جنونی استعمال کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ ایسے نوجوان اکثر سوشل میڈیا کو حقیقت سے فرار یا جذباتی سہارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جو بالآخر انہیں اس کی لت میں مبتلا کر سکتا ہے۔ یہ انکشاف سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے ایک نئی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہیں اپنے پلیٹ فارمز کو ایسے صارفین کے لیے زیادہ محفوظ اور معاون کیسے بنایا جائے۔
والدین اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے چیلنج
اس تحقیق کے نتائج والدین اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم پیغام رکھتے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ محض نگرانی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ نوعمروں کو سوشل میڈیا کے صحت مند استعمال کے بارے میں تعلیم دینے اور ان کی ذہنی صحت کے مسائل کو حل کرنے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میٹا کی یہ اندرونی تحقیق، جو کمپنی کے اپنے ڈیٹا پر مبنی ہے، سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں جاری بحث کو مزید تقویت دیتی ہے۔

