برطانیہ نے آرکٹک کے خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور ممکنہ دفاعی خطرات کے پیشِ نظر ناروے میں اپنے فوجی دستوں کی تعداد دوگنی کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی کے مطابق، اگلے تین سالوں کے دوران ناروے میں تعینات برطانوی اہلکاروں کی تعداد ایک ہزار سے بڑھا کر دو ہزار کر دی جائے گی۔
دفاعی حکمتِ عملی اور علاقائی سلامتی
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے اس اہم فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آرکٹک کے علاقے میں روس کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں اور جارحانہ عزائم عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شمالی یورپ کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور فوجیوں کی تعداد میں یہ اضافہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
تین سالہ منصوبہ اور فوجی تعیناتی
منصوبے کے تحت برطانوی فوجیوں کی تعداد میں یہ اضافہ مرحلہ وار کیا جائے گا۔ اگلے تین برسوں کے دوران اضافی ایک ہزار اہلکار ناروے روانہ کیے جائیں گے، جہاں وہ پہلے سے موجود دستوں کے ساتھ مل کر انتہائی سرد موسم میں جنگی مہارتوں کی تربیت حاصل کریں گے۔ ان دستوں کا بنیادی مقصد نیٹو کی شمالی سرحدوں کی نگرانی کرنا اور کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا فوری جواب دینا ہوگا۔
روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے بعد سے روس اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ آرکٹک کا خطہ اپنی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کی وجہ سے اب عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ برطانیہ کی جانب سے فوجیوں کی تعداد میں یہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لندن اس خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کے لیے اپنی فوجی موجودگی کو ناگزیر سمجھتا ہے۔

