برطانوی دارالحکومت لندن کے ایک اسکول میں چاقو زنی کے افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے 13 سالہ لڑکے کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس حملے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
تحقیقات میں انسدادِ دہشت گردی فورس کی شمولیت
واقعے کی حساسیت اور سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کی ذمہ داری انسدادِ دہشت گردی کے افسران کو سونپ دی گئی ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس کے ترجمان کے مطابق، اگرچہ تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، تاہم دہشت گردی کے شعبے کے ماہرین اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ آیا اس حملے کے پیچھے کوئی مخصوص نظریاتی محرکات کارفرما تھے یا نہیں۔
پولیس کا موقف اور حفاظتی اقدامات
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست کم عمر لڑکے سے تفتیش جاری ہے اور اس واقعے کے حوالے سے مزید کسی مشتبہ شخص کی تلاش نہیں کی جا رہی۔ واقعے کے فوری بعد اسکول کی عمارت کو سیل کر دیا گیا تھا اور طلبہ و اساتذہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
عوامی ردعمل اور انتظامیہ کے اقدامات
اسکول انتظامیہ اور مقامی حکام نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور تحقیقات مکمل ہونے تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

