برطانوی حکومت نے اپنے وزراء کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ سفارتی نوعیت کے نجی پیغامات، خاص طور پر سابق سفیروں یا غیر ملکی حکام کے ساتھ ہونے والے تبادلے، کو منظر عام پر نہ لائیں۔ یہ اقدام ‘مینڈلسن پیغامات’ کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد سفارتی تعلقات کی حساسیت اور رازداری کو برقرار رکھنا ہے۔
پس منظر
یہ تنبیہ لیبر پارٹی کے شیڈو منسٹر ویس سٹریٹنگ کی جانب سے امریکہ کے سابق سفیر کے ساتھ اپنے واٹس ایپ پیغامات کے تبادلے کو عوامی سطح پر شائع کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان پیغامات کی اشاعت نے حکومتی حلقوں میں تشویش پیدا کی اور سفارتی رابطوں کی رازداری کے حوالے سے نئے سرے سے بحث چھیڑ دی۔
حکومتی موقف
حکومتی ذرائع کے مطابق، وزراء کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ سفارتی رابطے انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کی رازداری کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ایسے پیغامات کی غیر مجاز اشاعت نہ صرف موجودہ سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ مستقبل کے رابطوں میں بھی بے اعتمادی پیدا کر سکتی ہے۔ ‘مینڈلسن پیغامات’ کی اصطلاح اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ماضی میں بھی اس طرح کے انکشافات نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ہنگامہ برپا کیا تھا۔ لہٰذا، وزراء سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لیں اور کسی بھی ایسے رابطے کو منظر عام پر نہ لائیں جو قومی مفادات یا سفارتی آداب کے منافی ہو۔

