کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے خلاف ان سنگین الزامات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے کہ یہ پلیٹ فارم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تنقیدی اور سیاسی مواد کو دانستہ طور پر سنسر کر رہا ہے۔
تحقیقات کا پس منظر
یہ تحقیقات ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہیں جب گزشتہ ہفتے ٹک ٹاک کے امریکی ورژن کو الگ کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے بعد ہزاروں صارفین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے سیاسی مواد کو پلیٹ فارم پر دبایا جا رہا ہے یا اس کی رسائی محدود کی جا رہی ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک انتظامیہ خاص طور پر وہ مواد ہٹا رہی ہے جو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں یا ان کی انتظامیہ پر تنقید کرتا ہے۔ ان الزامات نے کیلی فورنیا کی ریاستی حکومت میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں اظہار رائے کی آزادی اور صارفین کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے والے قوانین موجود ہیں۔
گورنر کا ردِ عمل اور قانونی جائزہ
گورنر گیون نیوزم نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ اس معاملے کی مکمل چھان بین کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ٹک ٹاک مواد کی سنسر شپ کے ذریعے کیلی فورنیا کے ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے یا نہیں۔
سیکرامنٹو میں جاری کردہ ایک بیان میں گورنر نیوزم نے واضح کیا کہ کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی یا تنقیدی مواد کو دبانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان الزامات کی سنگینی کے پیش نظر، کیلی فورنیا کی حکومت نے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ صارفین کے اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور پلیٹ فارم کی شفافیت کو جانچا جا سکے۔

