غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں میں جنگ بندی کے وعدوں اور متوقع اقدامات کے حوالے سے گہری مایوسی اور عدم اعتماد پایا جاتا ہے، حالانکہ اسرائیل نے حال ہی میں ایک یرغمالی کی آخری لاش کی بازیابی کا اعلان کیا ہے۔
الجزیرہ کی نمائندہ ہند خضریٰ کا کہنا ہے کہ غزہ کے عوام شدید بے چینی اور اضطراب کا شکار ہیں۔ ان کا مشاہدہ ہے کہ اسرائیلی یرغمالی کی لاش کی بازیابی کے باوجود، غزہ میں رہنے والے فلسطینیوں کے لیے صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور وہ جنگ بندی کے وعدوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
جنگ بندی کے وعدوں پر فلسطینیوں کا عدم اعتماد
ہند خضریٰ نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ غزہ میں رہنے والے فلسطینیوں کا خیال ہے کہ جنگ بندی کے حوالے سے کیے گئے وعدے صرف زبانی جمع خرچ ہیں اور زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں یہ احساس گہرا ہو چکا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی بات چیت کے نتائج ان کی روزمرہ کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب نہیں کر رہے ہیں۔
فلسطینیوں کا بنیادی اضطراب اس بات پر مرکوز ہے کہ جنگ بندی کے اقدامات کب اور کس طرح نافذ ہوں گے، اور کیا یہ اقدامات غزہ میں جاری انسانی بحران کو واقعی ختم کر سکیں گے۔
اسرائیلی تناظر: امید اور مایوسی کا پیمانہ
دوسری جانب، اسرائیل نے حال ہی میں ایک یرغمالی کی لاش کی بازیابی کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی اسے ‘یرغمالی چوک’ (Hostage Square) کہتے ہیں، جو ملک کی امید اور مایوسی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ چوک اسرائیلیوں کے لیے یرغمالیوں کی واپسی کی جدوجہد کی علامت ہے۔
تاہم، غزہ میں یہ بازیابی کسی بھی طرح سے فلسطینیوں کے اضطراب کو کم نہیں کر سکی ہے۔ غزہ کے عوام اپنے مستقبل اور جنگ کے مستقل خاتمے کے حوالے سے شدید غیر یقینی کا شکار ہیں، اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی تکالیف کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

