برطانیہ کی معروف تیراک ایملی بارکلے نے متنازعہ ‘اینہانسڈ گیمز’ میں شمولیت اختیار کر کے کھیلوں کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 28 سالہ ایملی بارکلے مئی میں منعقد ہونے والے ان گیمز میں حصہ لینے والی تیسری برطانوی کھلاڑی ہیں۔
ایملی بارکلے کی شمولیت
ایملی بارکلے، جنہوں نے 50 میٹر کے ایونٹ میں گولڈ میڈل بھی جیتا تھا، حال ہی میں ‘اینہانسڈ گیمز’ کے منتظمین کے ساتھ معاہدہ کرنے والی تازہ ترین برطانوی کھلاڑی بن گئی ہیں۔ ان کی شمولیت کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ان گیمز کی نوعیت پر دنیا بھر میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
متنازعہ گیمز کی نوعیت
’اینہانسڈ گیمز‘ کو روایتی اولمپک طرز کے مقابلوں کے برعکس ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ان مقابلوں میں کھلاڑیوں کو کارکردگی بڑھانے والی ادویات (Performance Enhancing Drugs – PEDs) کے استعمال کی اجازت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے کھیلوں کے بین الاقوامی اداروں نے انہیں غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔
ایملی بارکلے سے قبل دو دیگر برطانوی کھلاڑی بھی ان متنازعہ گیمز کا حصہ بن چکے ہیں۔ منتظمین کا مؤقف ہے کہ ان گیمز کا مقصد انسانی صلاحیتوں کی حدود کو جانچنا اور سائنس کی مدد سے ریکارڈ توڑنا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کھیلوں کی روح اور مساوات کے اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ گیمز مئی میں منعقد ہونے والے ہیں۔

