برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رُکنِ قومی ایگزیکٹو کمیٹی (NEC) نے گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم کو ایک آئندہ بائی‑الیکشن میں حصہ لینے سے روکنے کے فیصلے کے خلاف پچاس لیبر ممبران پارلیمنٹ (MPs) نے مشترکہ طور پر ایک نجی خط پر دستخط کیے۔ اس خط میں NEC کے اس اقدام کو پارٹی کے اندرونی جمہوری اصولوں اور انتخابی حکمت عملی کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
پس منظر
حال ہی میں لیبر پارٹی کی رُکنِ قومی ایگزیکٹو کمیٹی نے برنہم کو اس بات سے روک دیا کہ وہ بائی‑الیکشن میں امیدوار کے طور پر پیش ہوں۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پارٹی کے اندرونی اختلافات بڑھ رہے تھے اور کئی حلقوں میں لیبر کی امیدواریوں پر تنازعہ جاری تھا۔ برنہم، جو گریٹر مانچسٹر کے میئر کے عہدے پر فائز ہیں، اس فیصلے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیوں کے محدود ہونے کا خدشہ ظاہر کر چکے تھے۔
ٹریبیون گروپ کی کاروائی
ٹریبیون گروپ کے ایگزیکٹو لیڈرشپ کمیٹی، جو نرم بائیں سمت کے 100 سے زائد لیبر ایم پیوں پر مشتمل ایک کاؤکس ہے، نے اس معاملے پر خصوصی توجہ دی۔ اس کمیٹی نے ایک نجی خط تیار کر کے شابانہ (Shabana) کو بھیجا، جس میں NEC کے اس فیصلے کی تنقید کی گئی اور برنہم کی امیدواریت کی حمایت کی درخواست کی گئی۔ اس خط کے ساتھ ہی، 50 لیبر ایم پیوں نے اس پر دستخط کر کے اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔
متوقع اثرات اور ردعمل
ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی اندرونی مخالفت پارٹی کے انتخابی موقف کو کمزور کر سکتی ہے اور عوامی رائے پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ تاہم، لیبر کے نرم بائیں اراکین کا یہ قدم پارٹی کے اندر جمہوری عمل کی بحالی اور شفافیت کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ NEC کے ردعمل اور آئندہ کی حکمت عملی ابھی واضح نہیں ہوئی، لیکن اس معاملے نے لیبر پارٹی کے اندرونی ڈھانچے اور فیصلہ سازی کے طریقوں پر نئی بحثیں جنم دی ہیں۔

