اسرائیلی حکام نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان واقع اہم سرحدی گزرگاہ، رفح کراسنگ، کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ تاہم، یہ فیصلہ آخری لاپتہ یرغمالی کی باقیات کی تلاش اور بازیابی کے آپریشن کی تکمیل سے مشروط ہے۔
تلاش و بازیابی آپریشن کی تفصیلات
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فوجی ران گویلی (Ran Gvili) کی باقیات کی تلاش میں مصروف ہیں، جو مبینہ طور پر شمالی غزہ کے ایک قبرستان میں جاری ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی کی مصر کے ساتھ کلیدی سرحدی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی حتمی منظوری صرف اس آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد دی ہے۔
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اتوار کی شام ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اسرائیل رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کا اطلاق اس وقت ہوگا جب آخری یرغمالی کی باقیات کی تلاش کا عمل اختتام پذیر ہو جائے گا۔
رفح کراسنگ کی اہمیت
رفح کراسنگ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل اور لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔ اسرائیل کی جانب سے اس گزرگاہ کو کھولنے کا فیصلہ بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں سامنے آیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی لاپتہ اسرائیلی شہریوں کی باقیات کی بازیابی کو بھی ملکی سطح پر ایک اہم ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام صرف اس وقت اٹھایا جائے گا جب ران گویلی کی باقیات کی تلاش کا آپریشن کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔

