امریکہ میں ایک خطرناک اور شدید برفانی طوفان نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ملک بھر میں آٹھ لاکھ سے زائد گھروں اور کاروباری مراکز کی بجلی منقطع ہو گئی ہے۔ یہ طوفان امریکہ کے بڑے حصے پر محیط ہے اور حکام نے اسے ‘جان لیوا’ قرار دیا ہے۔
ایمرجنسی کا نفاذ اور حکومتی انتباہ
طوفان کی شدت کے پیش نظر، امریکہ کی تقریباً نصف ریاستوں میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ حالات انتہائی خطرناک اور ‘جان لیوا’ ہو سکتے ہیں، اور یہ موسمیاتی صورتحال تقریباً 180 ملین افراد کو براہ راست متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شہریوں کو گھروں میں رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔
شدید برفباری اور یخ بستہ ہواؤں کے باعث سڑکوں پر پھسلن بڑھ گئی ہے، جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور متعدد حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تر وہ شامل ہیں جو سڑک حادثات کا شکار ہوئے یا جنہیں شدید سردی کی وجہ سے طبی امداد بروقت نہ مل سکی۔
بجلی کا نظام شدید متاثر
ملک بھر میں بجلی کی فراہمی کا نظام شدید متاثر ہوا ہے، جہاں 800,000 سے زائد صارفین تاریکی میں ڈوب گئے ہیں۔ بجلی کی بحالی کے لیے عملہ سخت موسمی حالات میں کام کر رہا ہے، تاہم کئی علاقوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بہت نیچے گر چکا ہے جس کے باعث بحالی کا کام انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
یہ خطرناک موسمی نظام ملک کے شمال سے جنوب تک بڑے رقبے پر محیط ہے اور ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگلے چند روز تک صورتحال میں بہتری کا امکان کم ہے۔ حکومتی ادارے شہریوں کو ہیٹنگ کے متبادل ذرائع استعمال کرنے اور گرم لباس پہننے کی مسلسل ہدایت جاری کر رہے ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

