مینیاپولس میں ہفتہ کے روز شدید کشیدگی کے بعد ایک اور ہنگامی فائرنگ نے شہر کے اندر احتجاجی لہروں کو مزید بڑھا دیا۔ ایمرجنسی کیئر نرس الیکس پریٹی کی قتلِ عام کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں سڑکوں پر ہڑتالیں جاری ہیں، جہاں مظاہرین امیگریشن اینڈ کسٹمز انڈسٹریشن (ICE) کے خلاف واضح پیغام دے رہے ہیں۔
پروٹیسٹ کا پس منظر اور مقاصد
پروٹیسٹ کا آغاز ہفتے کے دن ہوا جب الیکس پریٹی کی ہتھیار سے ہلاک ہونے کی خبر نے عوام میں شدید غم اور غصے کو جنم دیا۔ اس واقعے کو گورنر ٹم والز نے "تبدیلی کا نقطۂ عروج” قرار دیا اور اس کے بعد سے متعدد گروہوں نے ICE کے "غیر تربیت یافتہ” ایجنٹس کے خلاف سڑکوں پر مارچ کیا۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ وہ وفاقی امیگریشن ایجنٹس کی موجودگی کو ریاست کی عوامی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
گورنر والز کا ٹرمپ سے اپیل
مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک سرکاری بیان کے ذریعے اپیل کی کہ وہ ریاست سے تمام غیر تربیت یافتہ وفاقی امیگریشن ایجنٹس کو واپس بلائیں۔ گورنر نے کہا کہ "ہمیں اپنی ریاست کی سرحدوں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تربیت یافتہ اور ذمہ دار عملے کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے افراد کی جو مقامی پولیس کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں۔”
ٹریمپ کی جانب سے ابتدائی ردعمل
وال سٹریٹ جرنل کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اشارہ کیا کہ وہ مستقبل میں ICE ایجنٹس کی واپسی پر غور کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس وقت تک کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ "قانونی اور عملی پہلوؤں” کے بعد ہی لیا جائے گا۔ اس بیان نے ریاستی حکام اور عوام کے درمیان مزید بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا وفاقی ایجنٹس کی موجودگی واقعی عوامی تحفظ کے لیے ضروری ہے یا نہیں۔
پروٹیسٹ کی وسیع تر اثرات
مینیاپولس میں جاری احتجاجات نے دیگر امریکی شہروں میں بھی امیگریشن پالیسی کے خلاف ردعمل کو بڑھاوا دیا ہے۔ کئی شہروں میں متبادل مظاہرے اور عوامی اجتماعات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جہاں شہریوں نے وفاقی ایجنٹس کی موجودگی کے خلاف اپنی آواز اٹھائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مقامی پولیس اور ریاستی حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

