منیسوٹا کے گورنر مارک والز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا کہ وہ امیگریشن ایجنٹس کو فوراً برطرف کرے، اس کے بعد منیاپولس میں ایک آئی سی یو نرس کی ہلاکت کے بعد دوسری مہینے کی مہلک فائرنگ ہوئی۔
پیش منظر
منیسوٹا کی ریاست کے سب سے بڑے شہر منیاپولس میں ہفتے کی صبح ایک فیڈرل امیگریشن ایجنٹ نے 37 سالہ مرد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے صرف تین ہفتے بعد، ایک اور فیڈرل ایجنٹ نے 37 سالہ آئی سی یو نرس الیکس جےفری پریٹی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ شہر میں اس ماہ کی دوسری مہلک فائرنگ تھی، جس نے امیگریشن پالیسی پر شدید تنقید کو جنم دیا۔
گورنر والز کا ردعمل
گورنر والز نے فوری طور پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام سرحدی اور امیگریشن ایجنٹس کو منیاپولس اور دیگر ریاستوں میں جہاں اس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں، برطرف کرے۔ انہوں نے کہا کہ "امریکی عوام اور مقامی کمیونٹیز کو اس طرح کے بے رحمانہ اقدامات برداشت نہیں ہونے چاہئیں” اور "قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی پاسداری ہر چیز سے فوقیت رکھتی ہے”۔
قانونی کارروائی اور عدالتی حکم
ایک وفاقی جج نے امیگریشن ایجنٹس کے ذریعے کی جانے والی مہلک فائرنگ کے بعد شواہد کو تباہ کرنے سے روکنے کا حکم دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ تمام ویڈیو ریکارڈنگ اور دیگر شواہد کو محفوظ رکھا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی کاروائی کے لیے دستیاب ہوں۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد، ویڈیوز نے دکھایا کہ ایجنٹ نے غیر ضروری طور پر فائرنگ کی تھی، جس سے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
امریکہ میں ردعمل
یہ واقعات امریکی صدر ٹرمپ پر بڑھتے ہوئے سیاسی اور عوامی دباؤ کا باعث بن چکے ہیں۔ کئی امریکی قانون ساز اور انسانی حقوق کے تنظیمیں امیگریشن پالیسی کی سختی کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور ایجنٹوں کی کاروائیوں پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اس معاملے پر شدید اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
آئندہ کے امکانات
اگر گورنر والز کی درخواست پر عمل ہوا تو یہ امریکی امیگریشن پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی واضح ردعمل نہیں دیا ہے، اور آئندہ دنوں میں اس موضوع پر مزید سیاسی اور قانونی جدوجہد متوقع ہے۔

