عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کے اس ہفتے کے اجلاس کے دوران کئی مواقع پر سوئٹزرلینڈ کا شہر ڈیووس ایک اعلیٰ سطحی ٹیکنالوجی کانفرنس میں تبدیل ہوتا دکھائی دیا۔ غیر متوقع طور پر، اس اجلاس کا سب سے بڑا اور حاوی موضوع مصنوعی ذہانت (اے آئی) رہا، جس پر دنیا بھر سے آئے ہوئے ٹیکنالوجی کے سربراہان نے کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز (سی ای اوز) نے جہاں ایک طرف اس ٹیکنالوجی کی انقلابی صلاحیتوں کا بھرپور وژن پیش کیا اور اس کے ذریعے دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں شیخی بگھاری، وہیں دوسری جانب انہوں نے اس سے جڑے ہوئے جاری چیلنجز، اخلاقی خدشات اور اس کے عالمی اثرات کا بھی اعتراف کیا۔ یہ اجلاس ٹیکنالوجی کے مستقبل کے بارے میں بڑے دعووں اور ان دعووں کو عملی جامہ پہنانے کے طریقہ کار پر ہونے والی گرما گرم بحثوں کا مرکز بنا رہا۔
اے آئی پر مرکوز اہم موضوعات
ڈیووس میں ٹیکنالوجی کے ایگزیکٹوز کے ذہنوں میں چار اہم موضوعات سرفہرست تھے، اور یہ تمام موضوعات مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے گرد گھوم رہے تھے۔ ان مباحثوں میں اے آئی کی ترقی، اس کے لیے درکار سرمایہ کاری، ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت اور اس کے سماجی اثرات شامل تھے۔
ان اعلیٰ سطحی گفتگو میں جیو پولیٹکس اور چین کے ساتھ ہونے والی پیش رفت بھی شامل تھی، جسے مصنوعی ذہانت کی ترقی کے تناظر میں ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھا گیا۔ سی ای اوز نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کی عالمی دوڑ میں جغرافیائی سیاسی کشمکش ایک بڑا کردار ادا کرے گی، اور اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مسابقت دونوں ہی ضروری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیووس فورم کا اس قدر ٹیکنالوجی پر مرکوز ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ عالمی اقتصادی اور سیاسی ایجنڈے کا مرکزی حصہ بن چکی ہے۔

