منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةچین سے تجارتی معاہدہ کیا تو کینیڈا پر 100 فیصد محصولات عائد...

چین سے تجارتی معاہدہ کیا تو کینیڈا پر 100 فیصد محصولات عائد کر دیے جائیں گے، امریکی صدر ٹرمپ کی شدید دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو سخت ترین دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اوٹاوا (کینیڈین حکومت) نے چین کے ساتھ کسی بھی قسم کا تجارتی معاہدہ کیا تو کینیڈین اشیاء پر فوری طور پر سو فیصد (100%) محصولات (ٹیرف) عائد کر دیے جائیں گے۔ یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی اور سیاسی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

کشیدگی میں اضافہ اور ٹرمپ کا بیان

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ محصولات کینیڈا سے امریکہ آنے والی تمام اشیاء اور مصنوعات پر لاگو ہوں گے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ "اگر کینیڈا چین کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہے، تو امریکہ میں داخل ہونے والی تمام کینیڈین اشیاء اور مصنوعات کے خلاف فوری طور پر 100 فیصد محصولات کا نفاذ کر دیا جائے گا۔”

یہ شدید بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کینیڈین وزیراعظم کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں آیا ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے کینیڈا پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ چین کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو محدود کرے، خاص طور پر حساس ٹیکنالوجی اور سٹریٹجک شعبوں میں۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ چین کے ساتھ کینیڈا کا کوئی بھی بڑا تجارتی معاہدہ امریکی مفادات کے خلاف ہو گا اور اس سے امریکہ کی معاشی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

تمام کینیڈین مصنوعات کو نشانہ بنانے کی وارننگ

دھمکی میں یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ نے کسی مخصوص شعبے یا مصنوعات کے بجائے، کینیڈا سے امریکہ آنے والی ‘تمام اشیاء اور مصنوعات’ پر 100 فیصد محصولات عائد کرنے کی بات کی ہے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق، اگر اس دھمکی پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ کینیڈا کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ کینیڈا اپنی برآمدات کے ایک بڑے حصے کے لیے امریکی مارکیٹ پر انحصار کرتا ہے۔ اوٹاوا کی جانب سے اس دھمکی پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں