منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةUncategorizedکیا چین چپکے سے مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیت رہا ہے؟

کیا چین چپکے سے مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیت رہا ہے؟

بی بی سی کی رپورٹر لِلی جمیلی نے اس بات کی تحقیق کی ہے کہ کیوں بڑی امریکی کمپنیاں اور سٹارٹ‑اپس دونوں چینی ٹیکنالوجی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی حالیہ رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز نے عالمی سطح پر اپنی رفتار بڑھا کر یا تو مقابلے کو برابر کیا ہے یا اس سے آگے نکل گئے ہیں۔

پس منظر

مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں امریکہ طویل عرصے سے سرکردہ رہا ہے۔ تاہم، گزشتہ چند سالوں میں چین نے اس شعبے میں بھاری سرمایہ کاری اور حکومتی حمایت کے ذریعے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں توازن کو تبدیل کرنے کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔

اسٹینفورڈ کی رپورٹ

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے ایک جامع تجزیہ پیش کیا جس میں متعدد چینی AI ماڈلز کی کارکردگی کو عالمی معیار کے مقابلے میں پرکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، کئی اہم میٹرکس—جیسے زبان کی فہم، تصویر کی شناخت اور تخلیقی صلاحیتیں—پر چینی ماڈلز نے نہ صرف امریکی حریفوں کے برابر بلکہ بعض اوقات ان سے بہتر نتائج دکھائے۔

امریکی کمپنیوں کا رجحان

اس تحقیق کے بعد امریکی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور نئی شروعاتی اداروں نے چینی AI سروسز اور پلیٹ فارمز کی جانب توجہ بڑھائی ہے۔ اس کی وجہ صرف کم لاگت نہیں، بلکہ چینی ماڈلز کی تیز رفتار اپ ڈیٹس اور مقامی ڈیٹا تک رسائی بھی ہے۔ اس رجحان نے امریکی حکام کو چینی ٹیکنالوجی کے ممکنہ سکیورٹی خطرات پر بھی غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔

چین کی حکمت عملی

چین کی حکمت عملی واضح ہے: سرکاری فنڈز، تحقیق و ترقی کے لیے مراعات اور بڑے ڈیٹا سیٹ تک رسائی کو یکجا کر کے AI کے ہر شعبے میں برتری حاصل کرنا۔ اس کے ساتھ ساتھ، چین نے بین الاقوامی شراکت داریوں اور اوپن‑سورس پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی ٹیکنالوجی کو عالمی مارکیٹ میں پھیلانے کی کوشش کی ہے۔

نتیجہ

اگرچہ امریکہ ابھی بھی AI کے بنیادی ایپلیکیشنز اور بنیادی ڈھانچے میں مضبوط مقام رکھتا ہے، لیکن چین کی مسلسل پیشرفت اور عالمی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں AI کی دوڑ میں چین کا مقام نمایاں ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر، عالمی ٹیکنالوجی پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر دوبارہ غور کرنا ضروری ہوگا۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں