مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاست میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے آپریشنز کو فوری طور پر بند کر دیں۔ یہ اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریاست میں ایک اور مہلک فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
واقعات کی تفصیلات
گورنر والز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "مینیسوٹا اب مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ صدر کو اس آپریشن کو ختم کرنا ہوگا۔ ہزاروں تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ افسران کو مینیسوٹا سے واپس بلایا جائے۔” گورنر والز نے آج صبح مینیاپولس میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے ایجنٹوں کی فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد نیشنل گارڈ کو فعال کر دیا تھا۔
بعد از دوپہر ایک نیوز کانفرنس میں، حکام نے بتایا کہ ہفتہ کو مینیاپولس میں ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کرنے والا وفاقی افسر "اعلیٰ تربیت یافتہ” تھا اور وہ بارڈر پٹرول ایجنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ یہ افسر اس ماہ کے اوائل میں ایک امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز لاء انفورسمنٹ افسر کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں میں بھی شریک ہوا تھا۔
حالیہ فائرنگ کے واقعات نے ریاست میں وفاقی ایجنسیوں کی موجودگی اور ان کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جس کے باعث گورنر والز نے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے فوری طور پر مداخلت کریں۔

