منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةدوسرے روز کے امن مذاکرات سے قبل روس کے وحشیانہ حملے، یوکرین...

دوسرے روز کے امن مذاکرات سے قبل روس کے وحشیانہ حملے، یوکرین نے شدید مذمت کر دی

ابوظہبی میں سہ فریقی مذاکرات کے دوسرے روز کے آغاز سے عین قبل، یوکرین نے روس کی جانب سے کیے گئے بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جنہیں کیف نے امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک وحشیانہ کوشش قرار دیا ہے۔

یوکرینی حکام کے مطابق، رات بھر جاری رہنے والے ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور تئیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یوکرین کا مؤقف ہے کہ روس نے یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب سفارتی سطح پر تنازع کے حل کے لیے بات چیت دوبارہ شروع ہونے والی تھی۔

مذاکرات کی میز پر حملہ

یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے روسی حملے کو امن عمل کے خلاف ایک براہ راست اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وحشیانہ حملہ "نہ صرف ہمارے لوگوں پر ہوا ہے، بلکہ اس نے براہ راست مذاکرات کی میز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "مکارانہ انداز میں، صدر پیوٹن نے ایک وحشیانہ، بڑے پیمانے پر میزائل حملے کا حکم دیا ہے،” جس کا مقصد یوکرین پر دباؤ بڑھانا اور امن کے لیے جاری کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔

زیلنسکی کا مؤقف: ‘یہ سب زمین کے بارے میں ہے’

ان حملوں کے تناظر میں، یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ یوکرین امریکہ اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا، کیونکہ ان کے بقول "یہ سب زمین کے بارے میں ہے۔” یوکرین کا اصرار ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں اس کی علاقائی سالمیت کی مکمل بحالی شامل ہونی چاہیے۔

وفود کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ ابوظہبی میں جاری ہے، تاہم یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ روس کی جانب سے اس طرح کے حملے امن کی راہ میں سنگین رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں