عالمی اقتصادی فورم (ڈیووس) میں ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے سربراہان نے شرکت کی، جہاں ان کی گفتگو کا مرکزی محور مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence – AI) کے گرد گھومتا رہا۔ ہفتے بھر کی ملاقاتوں اور مباحثوں کے دوران، چار ایسے موضوعات تھے جو ان ایگزیکٹوز کے ذہنوں پر حاوی رہے اور جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
مصنوعی ذہانت کی چار اہم جہتیں
سی این بی سی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، ٹیکنالوجی کے شعبے کے اعلیٰ ایگزیکٹوز کے لیے مصنوعی ذہانت صرف ایک رجحان نہیں بلکہ ان کی کاروباری حکمت عملی کا بنیادی جزو بن چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سی ای اوز (CEOs) حقیقی وقت میں خود کو نئے سرے سے منظم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
یہ سربراہان تیزی سے اپنی حکمت عملیوں میں فوری تبدیلیاں (About Face) لا رہے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ہونے والے ممکنہ نقصان کا ازالہ (Damage Control) کر سکیں اور اس نئی ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کی گفتگو کے چاروں اہم موضوعات کا تعلق براہ راست اے آئی کے اطلاق، سرمایہ کاری، اور اس کے مستقبل سے تھا۔
کیا یہ اے آئی بلبلہ ہے یا مضبوط سرمایہ کاری کا دور؟
ڈیووس میں ہفتے کی سب سے بڑی اور اہم بحث یہ رہی کہ آیا ہم مصنوعی ذہانت کے ایک ‘بلبلے’ (Bubble) میں جی رہے ہیں جو جلد پھٹ جائے گا، یا یہ محض ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ایک مضبوط اور پائیدار دور کی علامت ہے۔ اس بحث نے عالمی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کے رہنماؤں کو دو واضح کیمپوں میں تقسیم کر دیا۔
اس مرکزی بحث میں این ویڈیا (Nvidia) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، جینسن ہوانگ، جیسے اہم رہنماؤں نے فعال طور پر حصہ لیا۔ ان ایگزیکٹوز کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف ایک عارضی رجحان نہیں ہے بلکہ یہ ٹیکنالوجی کی صنعت کی بنیادوں کو مستقل طور پر تبدیل کر رہی ہے، جس کے لیے بڑے پیمانے پر اور طویل مدتی سرمایہ کاری ضروری ہے۔ ان کا زور اس بات پر تھا کہ موجودہ سرمایہ کاری کا چکر (Investment Cycle) ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔

