منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةٹریمپ کی گرین لینڈ کے معدنی حقوق پر زور چین کی نادر...

ٹریمپ کی گرین لینڈ کے معدنی حقوق پر زور چین کی نادر دھاتوں تک رسائی کو روک سکتا ہے

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں CNBC کے ساتھ گفتگو میں واضح کیا کہ گرین لینڈ کے معدنی حقوق امریکی-سوئس معاہدے کے فریم ورک کا حصہ ہیں، جس کا اعلان انہوں نے اس ہفتے ڈاوس، سوئٹزرلینڈ میں کیا۔ اس اقدام کے ذریعے واشنگٹن چین کی نادر دھاتوں پر منحصرگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

گرین لینڈ کے معدنی ذخائر اور امریکی منصوبہ

امریکی جیو لوجیکل سروے کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، گرین لینڈ دنیا کے آٹھویں بڑے نادر دھاتوں کے ذخائر کا حامل ہے، جس کی مقدار تقریباً 1.5 ملین میٹرک ٹن تخمیناً ہے۔ اس موسمِ گرما کے دوران امریکی انتظامیہ نے ایک امریکی کمپنی کے گرین لینڈ میں کان کنی کے منصوبے کی حمایت کے لیے 120 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دی۔ اس سرمایہ کاری کے ذریعے امریکہ اس خطے میں اپنی موجودگی مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

چین پر ممکنہ اثرات

نادر دھاتیں جدید ٹیکنالوجی، دفاعی نظام اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ چین نے طویل عرصے سے عالمی منڈی میں ان دھاتوں پر اپنی گرفت مضبوط کی ہوئی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ گرین لینڈ کے زیرِ زمین وسائل تک رسائی حاصل کر کے امریکہ چین کی اس حکمرانی کو کمزور کر سکتا ہے اور عالمی سپلائی چین میں توازن پیدا کر سکتا ہے۔

عالمی ردعمل اور مستقبل کی سمت

چین کی جانب سے اس پیش رفت پر ابھی تک کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سے چین کی حکمت عملی میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، گرین لینڈ کی مقامی حکومت اور مقامی آبادی کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ بڑے پیمانے پر معدنیات کی استخراج سے ماحولیاتی اور سماجی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اگر امریکی منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف چین کی نادر دھاتوں پر انحصار کو کم کرے گا بلکہ امریکہ کی توانائی اور دفاعی خودمختاری کو بھی مضبوط بنائے گا۔ تاہم، اس راستے میں بین الاقوامی قانون، مقامی حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے پہلوؤں پر بھی توجہ دینا لازمی ہوگا۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں