ٹک ٹاک کی امریکی مارکیٹ میں مستقبل کو یقینی بنانے کے بعد، اب یہ واضح کرنا باقی ہے کہ امریکی صارفین کو کس قسم کی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس کا الگورتھم اور امریکی صارفین کا ڈیٹا "اوریکل کے محفوظ امریکی کلاؤڈ ماحول” میں محفوظ رکھا جائے گا۔ اس معاہدے کی تکمیل کے بعد، ٹک ٹاک کی امریکی سرگرمیوں پر پابندی کے خطرے کو کم کیا گیا ہے، لیکن اس کے عملی اثرات ابھی واضح نہیں ہیں۔
معاہدے کی تفصیلات
دسمبر 2025 میں ٹک ٹاک نے امریکی سرمایہ کاروں کے ایک گروپ کو اپنی امریکی شاخ کا ایک حصہ فروخت کرنے کا معاہدہ حتمی شکل دی۔ اس ڈیو سٹ کے تحت، امریکی سرمایہ کاروں کو کمپنی کے اندر محدود حصہ ملے گا جبکہ اصل مالکیت چین کی کمپنی بائیٹ ڈانس کے پاس برقرار رہے گی۔ معاہدے کی بنیاد پر، تمام امریکی صارفین کا ڈیٹا اور الگورتھم اوریکل کے امریکی سرورز پر منتقل کیا جائے گا، جس سے امریکی حکام کی نگرانی اور حفاظتی تقاضے پورے ہوں گے۔
صارفین پر اثرات
ٹک ٹاک کے مطابق، اس تبدیلی سے صارفین کی پرائیویسی اور ڈیٹا سکیورٹی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ درحقیقت، کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اوریکل کے محفوظ کلاؤڈ پلیٹ فارم پر ڈیٹا کی میزبانی سے سیکیورٹی کے معیار میں اضافہ ہوگا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ الگورتھم کی شفافیت اور مواد کی ترغیب کے طریقے میں ممکنہ تبدیلیاں صارفین کے تجربے پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، امریکی قانون کے تحت ڈیٹا تک رسائی کے نئے ضوابط بھی لاگو ہو سکتے ہیں، جس سے اشتہاری ٹارگٹنگ اور مواد کی سفارشی نظام میں تبدیلیاں متوقع ہیں۔
آئندہ کا منظر
یہ معاہدہ طویل عرصے سے جاری امریکی حکومتی تشویشات کے بعد طے پایا ہے، جس کا مقصد ٹک ٹاک کی امریکی مارکیٹ میں جاری رہنے کی گارنٹی دینا تھا۔ اگرچہ ابھی تک واضح نہیں ہوا کہ الگورتھم کی کارکردگی یا مواد کی ترغیب کے میکانزم میں کس حد تک تبدیلی آئے گی، لیکن یہ واضح ہے کہ امریکی صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ آئندہ چند ماہ میں، ٹک ٹاک کو اپنی نئی ڈیٹا سٹوریج پالیسی اور الگورتھم کی کارکردگی کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی، جس سے صارفین اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو واضح تصویر مل سکے گی۔

