برطانیہ کے لیبر پارٹی کے سربراہ کیر سٹرمر نے گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان کی جنگ کے بارے میں کیے گئے بیانات پر اپنی تاریخ میں سب سے سخت عوامی تنقید کی۔ سٹرمر نے واضح الفاظ میں امریکی صدر کے اس بیان کو "غلط فہمی اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی سمت کا امکان ظاہر کیا۔
سٹرمر کا واضح ردعمل
سٹرمر نے میڈیا کانفرنس میں کہا کہ ٹرمپ کے افغانستان کے بارے میں جاری بیانات نہ صرف برطانوی عوام کے جذبات کی توہین کرتے ہیں بلکہ عالمی امن کے لیے خطرہ بھی پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کسی بھی ایسے بیانیے کو برداشت نہیں کرے گا جو جنگ کے اسباق کو منفی انداز میں پیش کرے۔ سٹرمر کی یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے امریکی فوجی مداخلت کے نتائج پر سوال اٹھائے تھے۔
امریکہ‑برطانیہ تعلقات پر ممکنہ اثرات
سٹرمر کی اس سخت مذمت کے بعد ماہرین کا خیال ہے کہ یہ قدم دونوں ممالک کے سفارتی رشتوں میں ایک نیا موڑ لا سکتا ہے۔ اگرچہ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان تاریخی طور پر مضبوط فوجی اور تجارتی تعلقات ہیں، لیکن اس طرح کی عوامی تنقید دونوں حکومتوں کے درمیان بامقصد مذاکرات کو متاثر کر سکتی ہے۔ سٹرمر نے اس موقع پر برطانوی حکومت کے ساتھ مل کر "متحد اور ذمہ دار” پالیسی کا اعلان بھی کیا۔
ٹرمپ کے بیانات اور عالمی ردعمل
ٹرمپ کے افغانستان کے بارے میں بیانات کے بعد متعدد عالمی رہنماؤں نے اس پر تنقید کی۔ یورپی یونین کے کئی ممبر ریاستوں نے اس بیان کو "غیر مناسب” قرار دیا اور اس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام کے خطرے پر زور دیا۔ سٹرمر کی مذمت اس عالمی ردعمل کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اس نے برطانوی عوام کے جذبات کی نمائندگی کا دعویٰ کیا۔

