منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةکیمرون نوری کی شکست: برطانوی ٹینس اپنی دولت اور وسائل کے باوجود...

کیمرون نوری کی شکست: برطانوی ٹینس اپنی دولت اور وسائل کے باوجود کیوں پیچھے ہے؟

برطانیہ کا شمار دنیا کے امیر ترین ٹینس ممالک میں ہوتا ہے، لیکن ایک بار پھر اس کے فردی مقابلے کے کھلاڑی گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس کے دوسرے ہفتے (چوتھے راؤنڈ) تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ کیمرون نوری کی حالیہ شکست نے اس حقیقت کو مزید اجاگر کر دیا ہے کہ برطانیہ اپنے وسائل اور صلاحیت کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا رہا ہے اور عالمی سطح پر اپنی حیثیت سے کم کارکردگی دکھانے کی روایت برقرار ہے۔

وسائل کی فراوانی اور نتائج کی کمی

لندن سے موصولہ خبروں کے مطابق، برطانوی ٹینس ایسوسی ایشن کے پاس مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے، مگر اس کے باوجود اعلیٰ سطح کے مقابلوں میں مستقل کامیابی ایک خواب بنی ہوئی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید مایوس کن ہو جاتی ہے جب ملک کے سب سے بڑے سنگلز کھلاڑی، کیمرون نوری، اہم ٹورنامنٹس میں ابتدائی مراحل میں ہی باہر ہو جاتے ہیں۔ نوری کی شکست، جیسا کہ آسٹریلین اوپن میں الیگزینڈر زیویریو کے ہاتھوں ہوئی، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ برطانوی ٹینس کا ڈھانچہ مطلوبہ نتائج پیدا کرنے میں ناکام ہے۔

اینڈی مرے کا سایہ اور پرانی روایت کی واپسی

اینڈی مرے کی مسلسل اور شاندار کامیابیوں نے ایک وقت کے لیے ‘نڈر مگر ہارنے والے برطانوی کھلاڑی’ کے تصور کو ختم کر دیا تھا۔ مرے نے متعدد گرینڈ سلیم ٹائٹل جیت کر برطانوی ٹینس کو ایک نئی پہچان دی تھی اور یہ تاثر دیا تھا کہ اب برطانوی کھلاڑی صرف شرکت نہیں بلکہ جیت کے لیے میدان میں اترتے ہیں۔ تاہم، مرے کے کیریئر کے آخری مراحل اور ان کے بعد دیگر کھلاڑیوں کی عدم موجودگی نے اس پرانے مسئلے کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع دے دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوری کا باہر ہو جانا صرف ایک میچ کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانیہ میں ٹینس کے بنیادی ڈھانچے اور کھلاڑیوں کی تیاری کے عمل میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔ جب تک نچلی سطح پر تربیت اور ٹیلنٹ کی نشاندہی کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں، برطانیہ کو اسی طرح کی مایوس کن کارکردگی کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا، جہاں وسائل کی فراوانی کے باوجود نتائج صفر کے قریب ہیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں