امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں عالمی امن کے لیے ایک نیا ادارہ، "بورڈ آف پیس” (Board of Peace) قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو "دہائیوں کے صدمے کو ختم کرنے” کے عزم کے ساتھ پیش کیا، لیکن بین الاقوامی ماہرین اور سفارتی حلقوں نے اسے خودستائی اور غیر حقیقی منصوبے کے طور پر مسترد کیا ہے۔ اس پیشکش کے ساتھ ہی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ نئی امن کی کوشش اقوام متحدہ (یو این) کی موجودہ کمزور کارکردگی کو مزید کمزور کر دے گی۔
پروگرام کا مقصد
ٹریمپ کے بیان کے مطابق "بورڈ آف پیس” عالمی تنازعات کے حل، انسانی بحرانوں کے خاتمے اور بین الاقوامی امن کے فروغ کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ صدر نے کہا کہ امریکہ اس ادارے کے ذریعے "دہائیوں کے صدمے کو ختم” کرنے کی کوشش کرے گا اور عالمی سطح پر امن کی نئی حکمت عملی متعارف کرائے گا۔
تنقید اور شبہات
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور کئی ممالک کے سفارتکاروں نے اس منصوبے پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ کی "بورڈ آف پیس” ایک خودستائی منصوبہ ہے جس میں امریکی مفادات کو عالمی امن کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، اس ادارے کی ساخت، ممبران کا انتخاب اور اس کی مالی معاونت کے بارے میں واضح معلومات نہ ہونے کی وجہ سے اس کی عملی قابلیت پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ پر ممکنہ اثرات
اقوام متحدہ پہلے ہی مالی بحران، ممبر ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی اختلافات اور امن مشنز کی ناکامیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر ٹرمپ کی پیشکش حقیقت بن جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں دو ممکنہ منظرنامے سامنے آ سکتے ہیں: ایک تو یہ کہ "بورڈ آف پیس” یو این کے ساتھ مل کر کام کرے اور اس کی کمزوریاں دور کرنے میں مددگار ثابت ہو؛ یا دوسری صورت میں یہ امریکی اثر و رسوخ کو بڑھاتے ہوئے یو این کے کردار کو کمزور کر دے۔ کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ کی اس نئی پیشکش سے یو این کی بین الاقوامی ساکھ مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
آئندہ کا منظرنامہ
فی الحال "بورڈ آف پیس” کے قیام کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن یا قانونی فریم ورک سامنے نہیں آیا۔ اس کے ساتھ ہی، عالمی برادری کے کئی ممالک نے اس منصوبے پر مزید معلومات اور شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر ٹرمپ کی حکومت اس منصوبے کو عملی شکل دے پائی تو اس کے اثرات نہ صرف عالمی امن کی سمت پر بلکہ بین الاقوامی اداروں کے مستقبل پر بھی گہرے ہوں گے۔ اس وقت تک یہ واضح ہے کہ "بورڈ آف پیس” کی کامیابی یا ناکامی اس بات پر منحصر ہوگی کہ اسے کس حد تک عالمی شمولیت اور تعاون حاصل ہو پائے گا۔

