امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کی جنگ کے دوران نٹو کے حلیف فوجیوں کے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے "تھوڑا پیچھے رہ کر” جنگ کے محاذ پر حصہ لیا۔ اس بیان نے برطانیہ سمیت کئی مغربی ممالک میں شدید غصہ اور تنقید کو جنم دیا۔
ٹرمپ کا بیان اور اس کا پس منظر
ٹرمپ نے ایک عوامی تقاریر کے دوران کہا کہ نٹو کی افواج نے افغانستان میں "محاذ سے تھوڑا دور” رہ کر جنگ میں حصہ لیا۔ انہوں نے اس بات کو اس وقت پیش کیا جب امریکہ کی افواج نے 2021 میں افغانستان سے اپنی آخری فوجی موجودگی ختم کی تھی۔ صدر نے اس بیان میں امریکی فوجی طاقت کے تصور پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "ایک امریکی شہری کے طور پر مجھے شدید شرمندگی محسوس ہوتی ہے”۔
برطانیہ اور نٹو کی جانب سے ردعمل
برطانیہ کے وزیر دفاع اور نٹو کے اعلیٰ عہدیداروں نے ٹرمپ کے اس بیان کو "غلط اور بے بنیاد” قرار دیا۔ برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ نٹو کی افواج نے افغانستان کی جنگ میں "بے مثال قربانی اور پیش قدمی” کی ہے اور ان کے کردار کو کم کرنا ناانصافی ہے۔ نٹو کے سیکریٹری جنرل نے بھی واضح کیا کہ نٹو کے تمام رکن ممالک نے جنگ کے دوران مشترکہ محاذ پر مکمل تعاون کیا۔
امریکی عوام اور سیاسی حلقوں کی آراء
ٹرمپ کے اس بیان پر امریکی عوام اور کئی سیاسی تجزیہ کاروں نے بھی تنقید کی۔ کئی ماہرین نے کہا کہ امریکی فوجی تاریخ میں "فوجی برتری” کا تصور ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اس طرح کے بیانات سے امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
نتیجہ اور آئندہ امکانات
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد برطانیہ اور نٹو کے ساتھ سفارتی تعلقات میں ہلکی سی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ امریکی سفارت خانے نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی، لیکن توقع کی جاتی ہے کہ آئندہ دنوں میں اس پر مزید تبادلہ خیال ہوگا۔

