امریکی ارب پتی جیف بیزوس کی خلائی کمپنی ‘بلو اوریجن’ نے خلا میں 5,408 سیٹلائٹس پر مشتمل ایک مواصلاتی نیٹ ورک قائم کرنے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے جو خاص طور پر کاروباری اداروں، ڈیٹا سینٹرز اور حکومتی صارفین کو ہدف بنائے گا۔ اس نئے نیٹ ورک کا نام ‘ٹیرا ویو’ (TeraWave) رکھا گیا ہے اور یہ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے مقبول سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ‘اسٹار لنک’ کا براہ راست حریف ہوگا۔
ٹیرا ویو کا دائرہ کار اور اہداف
‘بلو اوریجن’ کے مطابق، ٹیرا ویو نیٹ ورک کا بنیادی مقصد ایسے صارفین کو اعلیٰ معیار کی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنا ہے جنہیں مستحکم اور تیز رفتار کنیکٹیویٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں بڑے کاروباری ادارے، کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے لیے ڈیٹا سینٹرز، اور مختلف ممالک کی حکومتیں شامل ہیں۔ اس کے برعکس، اسٹار لنک جہاں ان بڑے صارفین کو بھی خدمات فراہم کرتا ہے وہیں عام انفرادی صارفین کے لیے بھی دستیاب ہے۔
مسابقتی منظر نامہ
ٹیرا ویو کا اعلان خلائی مواصلات کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسپیس ایکس کا اسٹار لنک پہلے ہی دنیا بھر میں لاکھوں صارفین کو انٹرنیٹ سروس فراہم کر رہا ہے، اور اب ‘بلو اوریجن’ کے اس اقدام سے اس شعبے میں مزید جدت اور ترقی کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں کمپنیاں خلا میں سیٹلائٹس کی تعداد بڑھانے اور عالمی سطح پر مواصلاتی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بلو اوریجن کا وژن
جیف بیزوس کی خلائی کمپنی ‘بلو اوریجن’ کا یہ منصوبہ ان کے وسیع تر خلائی عزائم کا حصہ ہے۔ کمپنی کا مقصد صرف سیٹلائٹ انٹرنیٹ تک محدود نہیں بلکہ خلا میں انسانی رسائی کو آسان بنانا اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا بھی ہے۔ ٹیرا ویو نیٹ ورک کے ذریعے، ‘بلو اوریجن’ کاروباری اور حکومتی شعبوں میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرے گی، جہاں اعلیٰ درجے کی اور محفوظ مواصلاتی سہولیات کی مانگ بہت زیادہ ہے۔

