ٹیکنالوجی کی دنیا کے دو بڑے نام، ایپل اور گوگل، مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ایک اہم شراکت داری کا اعلان کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایپل اپنی وائس اسسٹنٹ سری (Siri) کو اپ گریڈ کرنے کے لیے گوگل کے جنمینی (Gemini) ماڈلز کا استعمال کرے گا۔ یہ معاہدہ رواں سال کے آخر میں متوقع سری اپ گریڈ کے لیے کیا گیا ہے، جس کا مقصد صارفین کو بہتر اور زیادہ ذہین تجربہ فراہم کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ معاہدہ صارفین کے لیے خوش آئند ثابت ہو سکتا ہے، لیکن یہ ایپل کی اپنی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیار کرنے میں ناکامی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایپل کا گوگل کے AI ماڈلز پر انحصار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی میں دیگر کمپنیوں سے پیچھے رہ گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت، اوپن اے آئی (OpenAI) کا کردار معاون ہو جائے گا، جبکہ چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کے لیے دیگر پوزیشننگ موجود رہے گی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے کمپنیاں تیزی سے سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ایپل، جو ہمیشہ سے اپنی اختراعات اور صارف دوست مصنوعات کے لیے جانی جاتی ہے، اس شعبے میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، گوگل کے AI ماڈلز کا استعمال اس بات کا اشارہ ہے کہ ایپل نے اپنی داخلی صلاحیتوں کو بڑھانے کے بجائے بیرونی مدد حاصل کرنے کو ترجیح دی ہے۔

