عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں نے ایک اور نئی ریکارڈ سطح کو چھو لیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ کے خلاف محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکیاں ہیں۔ بدھ کے روز سونے کی فی اونس قیمت $4,800 سے تجاوز کر گئی، جس سے مارکیٹ میں شدید ہلچل مچی ہوئی ہے اور سرمایہ کار محفوظ اثاثوں (Safe Havens) کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
مارکیٹ کا ردعمل اور تجزیہ
صدر ٹرمپ کی تازہ ترین ٹیرف دھمکیوں کے بعد، منگل اور بدھ کے روز سونے (GC=F) اور چاندی (SI=F) دونوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور وہ اپنی نئی ریکارڈ بلندیوں پر پہنچ گئیں۔ اس غیر معمولی اضافے نے عالمی تجارت اور جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
پیل ہنٹ ایل ایل پی کے معروف تجزیہ کار پیٹر مالن جونز نے امریکی ٹیرف دھمکیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے امریکہ کی محصولات کی دھمکیاں "بھتہ خوری کے مافیا ریکٹ” کی یاد دلاتی ہیں۔ ان کے مطابق، اس طرح کی غیر یقینی صورتحال سونے کی مانگ میں مزید اضافہ کر رہی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد روایتی کرنسیوں اور اسٹاک مارکیٹوں سے اٹھ رہا ہے۔
$7,000 کی سطح کا امکان
مارکیٹ کے مبصرین اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی تجارتی کشیدگی اور سیاسی تناؤ برقرار رہا تو سونے کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔ موجودہ تیزی کے رجحان کو دیکھتے ہوئے، کئی بڑے مالیاتی اداروں نے پیش گوئی کی ہے کہ مستقبل قریب میں سونے کی قیمت $7,000 کی سطح کو چھونے کا قوی امکان ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج ہو گا۔
سونے کی قیمت میں 1.04 فیصد جبکہ چاندی کی قیمت میں 0.92 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ کار تیزی سے قیمتی دھاتوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

