سنیپ انکارپوریٹڈ، جو سنیپچٹ کا مالک ہے، نے لاوس اینجلس میں متوقع تاریخی مقدمے سے قبل سوشل میڈیا نشہ آور دعوے کا تصفیہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے سے سنیپ کو اس مقدمے کی سماعت سے بچنے کا موقع ملا جہاں مدعیان نے دعویٰ کیا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خود ساختہ طور پر نقصاندہ ہیں اور صارفین کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پیش رفت اور دیگر مدعا علیہان
ٹک ٹاک، یوٹیوب اور میٹا (فیس بک) اس ہی کیس میں مدعا علیہان کے طور پر برقرار ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہنے کی توقع ہے۔ عدالت میں اس ہفتے کے آخر میں سنیپ کے ساتھ ساتھ دیگر تین بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف سماعت طے شدہ تھی۔ تاہم سنیپ کی جانب سے تصفیہ طے ہونے کے بعد اس کمپنی کے لیے مقدمے کی سماعت ممکن نہیں رہی۔
مدعیان کے دلائل
مدعیان نے عدالت میں یہ دلیل پیش کی تھی کہ سوشل میڈیا ایپلیکیشنز میں ڈیزائن کی ایسی خصوصیات شامل ہیں جو صارفین کو مسلسل استعمال کی طرف مائل کرتی ہیں، جس سے ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور دیگر صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ان پلیٹ فارمز کو عوامی مفاد کے تحت ریگولیٹ کیا جانا چاہیے۔
تصفیہ کی شرائط اور اثرات
سنیپ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، تصفیہ کی شرائط عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئیں، لیکن کمپنی نے کہا کہ اس اقدام سے وہ اپنے صارفین کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات کرنے پر توجہ مرکوز کرے گی۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ سنیپ کی اس پیش قدمی سے دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ اپنی ایپلیکیشنز کی ڈیزائن اور ڈیٹا پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔
آئندہ قانونی منظرنامہ
ٹک ٹاک، یوٹیوب اور میٹا کے خلاف مقدمہ اب بھی جاری ہے اور اس کی سماعت اگلے ہفتے لاوس اینجلس کی عدالت میں متوقع ہے۔ قانونی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس کیس کے نتائج سے سوشل میڈیا کے ریگولیشن اور صارفین کے حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔

