لندن: برطانوی حکومت نے وسطی لندن میں چین کے ایک بہت بڑے نئے سفارت خانے کی تعمیر کے منصوبے کو باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ یہ منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب اپوزیشن جماعتوں کے کچھ ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے اس منصوبے پر سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی خدشات اور اپوزیشن کا ردعمل
حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے کچھ اراکین پارلیمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ یہ نیا سفارت خانہ جاسوسی کے اڈے کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وسیع و عریض عمارت کی تعمیر سے برطانیہ کی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ تاہم، برطانوی حکومت نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔
یورپ کا سب سے بڑا چینی سفارت خانہ
یہ نیا سفارت خانہ یورپ میں چین کا سب سے بڑا سفارت خانہ ہوگا۔ اس کی تعمیر کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اس منصوبے کی منظوری کے ذریعے برطانیہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری کی امید کر رہا ہے۔
منصوبے کی منظوری اور تنقید
برطانوی حکومت نے منگل کو اس منصوبے کی منظوری دی، جس کے تحت چین لندن کے قلب میں ایک عظیم الشان سفارت خانہ تعمیر کرے گا۔ ناقدین نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ان کے تحفظات کو نظر انداز کیا ہے۔

