منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةUncategorizedبرطانیہ: 16 سال سے کم عمر کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی...

برطانیہ: 16 سال سے کم عمر کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تیاری، مشاورت کا آغاز

لندن: برطانوی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے باضابطہ مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے اور ان کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے وسیع تر اقدامات کی ایک کڑی ہے۔

اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی کا نفاذ

اس اہم اعلان کے ساتھ ہی حکومت نے ملک بھر کے اسکولوں سے بھی توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اب ازخود (by default) موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دیں گے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسکولوں میں فون کے استعمال کی ممانعت سے تعلیمی ماحول بہتر ہوگا اور بچوں کی توجہ تعلیم پر مرکوز رہے گی۔

وزراء کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات، بشمول سائبر دھونس (Cyberbullying) اور ذہنی صحت کے مسائل، کے پیش نظر یہ ضروری ہو گیا تھا کہ کم سن بچوں کے لیے سخت قوانین وضع کیے جائیں۔

حکومتی ارکان کا دباؤ

حکومت نے یہ مشاورت اپنی ہی جماعت کے درجنوں ارکانِ پارلیمنٹ (بیک بینچرز) کے شدید دباؤ کے بعد شروع کی ہے۔ یہ ارکان طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں۔ ان ارکان کا خیال تھا کہ موجودہ قوانین بچوں کے تحفظ کے لیے ناکافی ہیں۔

وزیر اعظم کا دوٹوک بیان

برطانیہ کے وزیر اعظم کیر سٹارمر نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قوانین کو سخت کرنے پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور اس سلسلے میں کوئی بھی آپشن "میز سے باہر نہیں” (no option off the table) ہے۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ حکومت بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے، جس میں 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر مکمل پابندی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ مشاورت کے نتائج کی روشنی میں آئندہ چند ماہ میں حتمی پالیسی کا اعلان متوقع ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں