سوشل میڈیا کے عالمی دیو میٹا نے اپنی ریئلٹی لیبز (Reality Labs) کے تحت چل رہے میٹاورس کے متعدد منصوبوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے پسِ منظر میں کمپنی کی جانب سے 73 ارب امریکی ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کے باوجود صارفین کی جانب سے اس تصور کی کم پذیرائی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت شامل ہے۔
پچھلا پس منظر
میٹا نے گزشتہ چند سالوں میں میٹاورس کو مستقبل کی ڈیجیٹل دنیا کے طور پر پیش کیا تھا اور اس کے لیے ورچوئل رئیلٹی (VR) ہیڈسیٹ، سافٹ ویئر پلیٹ فارم اور ایپلیکیشنز کی ترقی پر بھاری سرمایہ خرچ کیا۔ تاہم، مارکیٹ کی طلب میں کمی اور AI‑پر مبنی ایپلیکیشنز کے عروج نے VR کی مقبولیت کو کمزور کر دیا۔
اہم نکات
• میٹا نے ریئلٹی لیبز کے تحت جاری تمام غیر ضروری VR منصوبوں کو بند کر کے وسائل کو AI اور دیگر ترجیحی شعبوں کی طرف منتقل کرنے کا اعلان کیا۔
• کمپنی کی جانب سے میٹاورس پر کی گئی 73 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو اب ناکام سرمایہ کاری کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
• اس فیصلے کے بعد میٹا کے شیئر کی قیمت میں فوری طور پر کمی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔
متوقع اثرات
میٹا کی اس حکمت عملی کی تبدیلی سے نہ صرف VR صنعت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں AI کی حاکمیت مزید واضح ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی، میٹاورس کے متبادل تصور پر توجہ مرکوز ہونے کے ساتھ، دیگر ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی اپنے سرمایہ کاری کے رخ کو دوبارہ جائزہ لینے کا موقع پیدا ہوگا۔
آئندہ پیش رفت
میٹا نے واضح کیا ہے کہ وہ AI اور میٹا ورچوئل پلیٹ فارم کے ارتقاء پر توجہ مرکوز کرے گا اور مستقبل میں نئی مصنوعات اور خدمات کے ذریعے صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی، کمپنی کے اندرونی تجزیے کے نتائج اور نئی حکمت عملیوں کی تفصیلات آئندہ ہفتوں میں جاری کی جائیں گی۔

