بدھ, جنوری 28, 2026
الرئيسيةسر ڈیوڈ ایٹنبرا کا ایک خط، ماہرِ حیاتِ وحش کی فلم سازی...

سر ڈیوڈ ایٹنبرا کا ایک خط، ماہرِ حیاتِ وحش کی فلم سازی کے سفر کا نقطۂ آغاز

معروف وائلڈ لائف فلم ساز کرسچن ماروٹ نے حال ہی میں یہ دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ ان کے پیشہ ورانہ فلم سازی کے سفر کا آغاز دنیا کے مشہور ماہرِ حیاتِ وحش اور براڈکاسٹر سر ڈیوڈ ایٹنبرا کے ایک غیر متوقع جوابی خط کے ذریعے ہوا۔ ماروٹ کے مطابق، یہ خط ان کے کیریئر کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔

غیر متوقع حوصلہ افزائی

کرسچن ماروٹ نے بتایا کہ جب وہ صرف 19 برس کے تھے اور فلم سازی کے میدان میں نئے تھے، تو انہوں نے اپنی تیار کردہ ایک مختصر دستاویزی فلم سر ڈیوڈ ایٹنبرا کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ماروٹ کو یہ گمان بھی نہیں تھا کہ عالمی شہرت یافتہ شخصیت ان کی فلم پر کوئی ردِ عمل دیں گی، لیکن ان کی حیرت اس وقت خوشی میں بدل گئی جب انہیں سر ڈیوڈ ایٹنبرا کی جانب سے ایک ذاتی اور حوصلہ افزا جوابی خط موصول ہوا۔

کیریئر کا باقاعدہ آغاز

ماروٹ نے اس خط کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ خط ان کے لیے ایک سند کی حیثیت رکھتا تھا۔ سر ڈیوڈ ایٹنبرا کے اس خط نے نہ صرف ان کی صلاحیتوں کی تصدیق کی بلکہ انہیں اس بات کا یقین بھی دلایا کہ وہ حیاتِ وحش کی فلم سازی کے میدان میں اپنا مستقبل بنا سکتے ہیں۔

کرسچن ماروٹ نے واضح کیا کہ "ایٹنبرا کا ایک خط ہی تھا جس نے میرے وائلڈ لائف فلم سازی کے کیریئر کا باقاعدہ آغاز کیا۔” یہ واقعہ نوجوان فلم سازوں کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح ایک غیر متوقع حوصلہ افزائی بڑی کامیابی کا سبب بن سکتی ہے اور کس طرح ایک لیجنڈری شخصیت کی توجہ کسی کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکتی ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں