مالیاتی اداروں کی جانب سے صارفین کو دوبارہ قرض کے جال میں پھنسانے کی ایک حیران کن مثال سامنے آئی ہے، جہاں ایک کریڈٹ سکور کمپنی نے ایک ایسی خاتون کو نئے کریڈٹ کارڈز کے لیے درخواست دینے کی ترغیب دی جو تقریباً دس ہزار پاؤنڈ (برطانوی کرنسی) کا قرض ادا کر کے مالی آزادی حاصل کرنے والی تھیں۔
قرض سے آزادی کی منزل اور ترغیبی ای میلز
خاتون نے بتایا کہ وہ ایک طویل عرصے سے دس ہزار پاؤنڈ کے کریڈٹ کارڈ قرض کی ادائیگی میں مصروف تھیں اور بالآخر اس بوجھ سے مکمل نجات کے قریب پہنچ چکی تھیں۔ ان کا مقصد جلد از جلد قرض سے پاک ہو کر اپنی مالی حالت کو مستحکم کرنا تھا۔
تاہم، جیسے ہی ان کی مقروضیت کی سطح کم ہوئی، کریڈٹ سکور کمپنی نے انہیں مسلسل ای میلز بھیجنا شروع کر دیں جن میں انہیں نئے کریڈٹ کارڈز کے لیے درخواست دینے کی پیشکش کی جا رہی تھی۔ ان پیغامات میں یہ باور کرایا گیا کہ ان کا کریڈٹ سکور اب بہتر ہو چکا ہے اور وہ مزید قرض حاصل کرنے کی اہل ہیں۔ یہ ترغیبی ای میلز ایسے وقت میں بھیجی گئیں جب خاتون صرف چند اقساط کی ادائیگی کے بعد مکمل طور پر قرض سے آزاد ہو جاتیں۔
اخلاقیات پر سوالات
خاتون نے اس عمل کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کریڈٹ سکور کمپنیاں بظاہر صارفین کو مالی طور پر مستحکم کرنے کے بجائے انہیں مستقل طور پر مقروض رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ان کا مقصد لوگوں کو قرض کے چکر سے باہر نکالنا نہیں بلکہ انہیں دوبارہ مالی بوجھ تلے لانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک جانب یہ کمپنیاں مالیاتی نظم و ضبط سکھانے کا دعویٰ کرتی ہیں، جبکہ دوسری جانب ان کی مارکیٹنگ حکمت عملی کا محور صارفین کو زیادہ سے زیادہ قرض لینے کی طرف مائل کرنا ہوتا ہے۔ اس واقعے نے مالیاتی اداروں کی مارکیٹنگ حکمت عملیوں کی اخلاقیات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صارفین مالی مشکلات سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

