ایک عالمی تحقیقاتی مطالعے کے تحت 1,000 رضاکاروں کو شامل کر کے یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ کیا انگلی کے سرے سے لیا گیا خون کا ٹیسٹ الزائمر بیماری کی تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تحقیق میں اب تک 337 شرکاء کے نمونے کامیابی سے تجزیہ کیے گئے اور ثابت ہوا کہ اس سادہ ٹیسٹ کے ذریعے الزائمر کی بنیادی بیماری کے اہم بائیومارکرز کی درست پیمائش ممکن ہے۔
پروجیکٹ کی تفصیلات
یہ مطالعہ "PREDICTOM” کے نام سے جانا جاتا ہے جس کا مقصد الزائمر کے ابتدائی مرحلے کی شناخت کو آسان اور سستے طریقے سے ممکن بنانا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ایک معمولی فنگر پرِک (انگلی کے سرے سے خون کا چھوٹا سا نمونہ) پر مبنی ہے، جس سے خون کے اندر موجود امیلوئڈ‑بیٹا اور ٹاؤ پروٹین جیسے بائیومارکرز کی مقدار معلوم کی جاتی ہے۔
پہلے مرحلے کے نتائج
پروٹوکول کے تحت 337 رضاکاروں کے نمونوں کی جانچ کے بعد یہ واضح ہوا کہ فنگر پرِک ٹیسٹ کی حساسیت اور مخصوصیت دونوں ہی روایتی خون کے نمونے کے مقابلے میں تقریباً برابر ہیں۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مستقبل میں مریضوں کو ہسپتال یا لیبارٹری کے بڑے سسٹم کی ضرورت کے بغیر گھر پر ہی جلدی تشخیص کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
عالمی سطح پر اہمیت
الزائمر کی بیماری کی ابتدائی شناخت مریض کی زندگی کے معیار اور علاج کے نتائج پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اس نئی ٹیسٹنگ طریقے کی کامیابی سے دنیا بھر کے معالجین کو جلدی تشخیص کے ذریعے مریضوں کو مناسب دیکھ بھال فراہم کرنے کا موقع ملے گا اور ساتھ ہی اس بیماری کے بارے میں وسیع پیمانے پر تحقیق کو بھی تقویت ملے گی۔
آئندہ مراحل
اگلے مرحلے میں مزید 663 رضاکاروں کو شامل کر کے ٹیسٹ کی درستگی اور قابلِ اعتمادیت کو حتمی طور پر ثابت کیا جائے گا۔ اگر یہ تحقیق کامیاب ثابت ہوئی تو فنگر پرِک ٹیسٹ کو عالمی سطح پر الزائمر کی اسکریننگ کے لیے معیاری طریقہ کار کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے۔

