امریکی سٹریٹجک تجزیہ کار اسکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ کے لیے یہ امکان کم ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “دستخطی معاشی پالیسی” کے تحت عائد کردہ تجارتی پابندیاں منسوخ کرے۔ یہ بیان بیسینٹ کے تبصروں کے ایک دن بعد سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ یورپی یونین کی کچھ اشیاء پر نئی ٹیریف عائد کرے گا، جب تک کہ امریکہ کو گرین لینڈ کے حصول کے لیے کوئی معاہدہ طے نہ ہو جائے۔
بیسینٹ کے تبصرے
بیسینٹ نے کہا: “مجھے یقین ہے کہ سپریم کورٹ کے لیے یہ بہت کم امکان ہے کہ وہ کسی صدر کی دستخطی معاشی پالیسی کو اوور رول کرے۔ صرف اس صورت میں ایسا ممکن ہو سکتا ہے جب عدالت کسی بھی صدر کو عالمی معیشت کو غیر معقول ٹیریف کے ذریعے دھمکی دینے کی اجازت دینے کے لیے ایک نیا قانونی پیش منظر قائم کرے۔” انہوں نے مزید واضح کیا کہ تجارتی پابندیاں آئندہ قانون سازی کے لیے کانگریس کی ذمہ داری ہیں، نہ کہ عدلیہ کی۔
ٹریڈ پالیسی کا پس منظر
ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حصول کے لیے امریکی مفادات کو تقویت دینے کے پیش نظر یورپی ممالک پر دباؤ بڑھانے کی نیت سے نئی ٹیریف کے نفاذ کا اعلان کیا۔ اس اقدام کے تحت یورپی یونین کی متعدد اشیاء پر اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی، جس کا مقصد مذاکرات میں امریکی موقف کو مضبوط بنانا ہے۔
سپریم کورٹ کا ممکنہ موقف
قانونی ماہرین کے مطابق، امریکی آئین کے تحت تجارتی پالیسیوں کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد بنیادی طور پر ایگزیکٹو اور کانگریس کے دائرے میں آتا ہے۔ عدالت عام طور پر اس معاملے میں مداخلت نہیں کرتی جب تک کہ واضح طور پر آئینی خلاف ورزی کا ثبوت نہ ملے۔ اس لیے بیسینٹ کے مطابق، سپریم کورٹ کے لیے ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کو منسوخ کرنا غیر معمولی اور نایاب ہوگا۔
قانونی اور سیاسی اثرات
اگر عدالت اس پالیسی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ امریکی ایگزیکٹو کی تجارتی حکمت عملی کو تقویت دے گا اور مستقبل میں کسی بھی صدر کے لیے تجارتی دباؤ کے آلات کے استعمال کو قانونی جواز فراہم کرے گا۔ دوسری طرف، اگر عدالت کسی حد تک مداخلت کرتی ہے تو اس سے آئندہ کسی بھی امریکی صدر کے لیے عالمی معیشت پر غیر متوقع ٹیریف کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔

