برطانوی پارلیمنٹ کے رکن اور سابق شیڈو فارن منسٹر اینڈریو روزنڈیل نے کنزرویٹو پارٹی سے استعفیٰ دے کر ریفارم یو کے (Reform UK) میں شمولیت اختیار کی۔ یہ قدم اُن کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا، خاص طور پر اس وقت جب اُن کے ہم منصب اور سابق شیڈو جسٹس منسٹر رابرٹ جینرک نے بھی اسی پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
پس منظر
اینڈریو روزنڈیل، جو رومفورڈ کے نمائندے کے طور پر طویل عرصے سے پارلیمنٹ میں سرگرم ہیں، نے کنزرویٹو پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی داخلی کشمکش اور پارٹی کی پالیسیوں سے عدم اتفاق کے پیشِ نظر اپنی رکنیت ختم کی۔ ان کی اس تبدیلی کے ساتھ ہی، رابرٹ جینرک کی بھی ریفارم یو کے میں شمولیت نے اس پارٹی کو برطانوی سیاسی منظرنامے میں ایک نیا رخ دیا ہے۔
قانونی معاملہ
روزنڈیل کے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں پولیس نے انہیں تقریباً تین سال تک ہاؤس آف کامنز سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اس قانونی کارروائی کے دوران ان کی پارٹی سے نکلنے کا فیصلہ سیاسی اور قانونی دونوں پہلوؤں سے اہمیت رکھتا ہے۔
سیاسی اثرات
روزنڈیل کی ریفارم یو کے میں شمولیت نے کنزرویٹو پارٹی کے اندر مزید اضطراب پیدا کیا ہے اور پارٹی کے اندرونی ڈھانچے کی کمزوریاں واضح ہوئیں۔ اس کے ساتھ ہی، ریفارم یو کے کو بھی ایک نمایاں برطانوی سیاستدان کے ساتھ مضبوط بنیادیں مل گئیں، جس سے اس کی آئندہ الیکشن میں کارکردگی پر مثبت اثرات متوقع ہیں۔
آئندہ امکانات
اگر روزنڈیل اور جینرک کی شمولیت ریفارم یو کے کے لیے عوامی حمایت میں اضافہ کرتی ہے تو یہ برطانیہ کی سیاسی سمت کو تبدیل کر سکتی ہے۔ تاہم، قانونی مقدمات کی پیش رفت اور عوامی ردعمل اس تبدیلی کی پائیداری کا تعین کرے گا۔

