منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةآسٹریلیا کے نقش قدم پر: 16 سال سے کم عمر بچوں کے...

آسٹریلیا کے نقش قدم پر: 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا عالمی رجحان

بچوں کے سکرین ٹائم اور ان کی ذہنی صحت پر اس کے منفی اثرات کے حوالے سے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش کے پیش نظر، مغربی ممالک سخت قانون سازی کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔ برطانیہ اور فرانس نے آسٹریلیا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے منصوبوں پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ یہ سوال اب اہم ہو چکا ہے کہ آسٹریلیا کے بعد اس پابندی کو نافذ کرنے والا اگلا ملک کون ہوگا۔

برطانیہ میں پابندی کی حمایت کا امکان

برطانوی وزیر اعظم سر کیر سٹارمر نے حال ہی میں بچوں کے سکرین ٹائم کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس اہم معاملے پر آئندہ ہفتے ہاؤس آف لارڈز میں ووٹنگ ہونے کا قوی امکان ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم سٹارمر نے پہلے اس طرح کی پابندی کی نقل کرنے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا، لیکن اب وہ 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ ان کا یہ موقف بچوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے، اور توقع ہے کہ پارلیمنٹ میں اس حوالے سے ایک مسودہ قانون پیش کیا جائے گا۔

فرانس اور آسٹریلیا کا کامیاب ماڈل

برطانیہ کے ساتھ ساتھ، فرانس بھی اس عالمی رجحان میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ فرانسیسی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 کے تعلیمی سال کے آغاز سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کر دے گی۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات اور ذہنی دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا اس پابندی کو نافذ کرنے والا پہلا بڑا ملک تھا، جہاں اس قانون کے نفاذ کے بعد میٹا (Meta) کو 550,000 سے زائد ایسے اکاؤنٹس بلاک کرنے پڑے جو عمر کی حد پوری نہیں کرتے تھے۔ ان بین الاقوامی اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں اب بچوں کی ڈیجیٹل دنیا میں حفاظت کے لیے سخت اقدامات اٹھانے پر متفق ہو رہی ہیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں