امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں جے پی مورگن چینج کے خلاف قانونی کارروائی کا ارادہ ظاہر کیا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اعلان کیا کہ وہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر بینک کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے، اس الزام کے ساتھ کہ بینک نے 6 جنوری 2021 کے کیپٹل ہڑتال کے بعد انہیں “غلط اور غیر مناسب طریقے سے” ڈی بینک کر دیا۔
ٹرمپ کا دعویٰ اور قانونی قدم
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ جے پی مورگن چینج نے ان کے اکاؤنٹس کو غیر قانونی طور پر منجمد اور بند کر دیا، جس سے ان کی مالیاتی سرگرمیوں پر شدید پابندی عائد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام “غلط اور غیر مناسب” تھا اور اس کے خلاف وہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر قانونی چارہ جوئی کریں گے۔
جے پی مورگن چینج کی جانب سے ردعمل
اب تک بینک کی جانب سے اس دعویٰ پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔ تاہم، جے پی مورگن چینج کے نمائندے عام طور پر اس طرح کے الزامات پر قانونی اور تجارتی اصولوں کے تحت مناسب طریقے سے ردعمل دیتے ہیں۔ بینک کے قانونی مشیر اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ کسی بھی اکاؤنٹ کی منجمدی یا بندش کے پیچھے بینک کی پالیسی اور ریگولیٹری تقاضے ہوتے ہیں۔
پس منظر
6 جنوری 2021 کو امریکی کیپٹل پر ہونے والی ہڑتال کے بعد متعدد مالیاتی اداروں نے اس میں ملوث افراد کے اکاؤنٹس پر پابندیاں عائد کیں۔ اس سلسلے میں جے پی مورگن چینج سمیت کئی بینکوں پر بھی تنقید ہوئی کہ انہوں نے سیاسی وجوہات کی بنیاد پر مالیاتی خدمات سے افراد کو مستثنیٰ کیا۔ ٹرمپ نے اس معاملے کو اپنی سیاسی جدوجہد کا حصہ قرار دیتے ہوئے بینک کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا۔
قانونی امکانات اور اثرات
اگر ٹرمپ کی جانب سے مقدمہ دائر کیا جاتا ہے تو اس سے بینکنگ سیکٹر میں سیاسی شخصیات کے خلاف مالیاتی پابندیوں کے قانونی جواز پر نئی بحث شروع ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس مقدمے کے نتیجے میں بینکوں کی پالیسیوں اور ریگولیٹری فریم ورک پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ ٹرمپ کے دعوے کس حد تک قانونی بنیاد رکھتے ہیں۔

