یورپی یونین (EU) نے ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی میٹا کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی مقبول ترین میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ پر حریف کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت (AI) کے چیٹ بوٹس کو چلنے کی اجازت دے۔ یہ مطالبہ ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (DMA) کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو ختم کرنا اور ڈیجیٹل مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دینا ہے۔
تفصیلات اور میٹا کا ردعمل
یورپی ریگولیٹرز نے میٹا پر زور دیا ہے کہ وہ واٹس ایپ کے پلیٹ فارم کو مدمقابل کمپنیوں کے اے آئی ٹولز کے لیے کھولے تاکہ صارفین کو انتخاب کی آزادی مل سکے اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں صحت مند مقابلہ قائم ہو سکے۔ یہ حکم اس وقت سامنے آیا ہے جب میٹا نے حال ہی میں واٹس ایپ میں اے آئی چیٹ بوٹس کو مربوط کیا ہے، جس پر حریف کمپنیوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اس حکم پر میٹا کے ترجمان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ یورپی یونین کے پاس جنوری میں ایپلیکیشن میں کی گئی تبدیلیوں پر مداخلت کرنے کا کوئی جواز یا ٹھوس وجہ موجود نہیں ہے۔ میٹا کا مؤقف ہے کہ واٹس ایپ میں کی گئی تبدیلیاں صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے تھیں اور ان کا مقصد کسی بھی طرح سے مسابقت کو محدود کرنا نہیں تھا۔
ڈی ایم اے کی اہمیت
یورپی یونین کا یہ اقدام ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ڈی ایم اے کے تحت، بڑی کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کو حریفوں کے لیے کھولیں اور صارفین کو اپنی سروسز کے علاوہ دیگر سروسز استعمال کرنے کی آزادی دیں۔
اگر میٹا یورپی یونین کی اس ہدایت پر عمل نہیں کرتی تو اسے ڈی ایم اے کی خلاف ورزی کے تحت بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یورپی ریگولیٹرز ٹیکنالوجی سیکٹر میں مساوی میدان فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی کمپنی اپنی مارکیٹ پوزیشن کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔

