امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کی جانب سے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) پر تنقید کرنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے مالکان کی شناخت کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ بڑھانے کی اطلاعات ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، محکمہ نے ایسے سینکڑوں سمنز جاری کیے ہیں جن کا مقصد ان گمنام اکاؤنٹس کے پیچھے موجود افراد کو بے نقاب کرنا ہے۔
تفصیلات
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے یہ اقدامات اس وقت اٹھائے جا رہے ہیں جب ICE کے خلاف عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ ان اکاؤنٹس کو قومی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دے رہا ہے۔ ان سمنز کے ذریعے، DHS ٹیکنالوجی کمپنیوں سے ان اکاؤنٹس کے صارفین کی ذاتی معلومات، جیسے کہ نام، پتے، اور دیگر رابطے کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت اظہارِ رائے کی آزادی اور حکومتی نگرانی کے درمیان ایک نازک توازن پر سوالات اٹھا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات شہریوں کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے سے روک سکتے ہیں اور انہیں خوف و ہراس کا شکار کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب، حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ ان سمنز کے نتیجے میں کتنی معلومات حاصل کی گئی ہیں اور ان کا استعمال کس طرح کیا جائے گا۔ تاہم، اس معاملے پر انسانی حقوق کے گروپوں اور شہری آزادی کے علمبرداروں کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

