امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے حوالے سے پیش کیے گئے ‘مستقبل کے معاہدے کے فریم ورک’ نے بین الاقوامی سطح پر شدید توجہ حاصل کر لی ہے۔ تاہم، اس تجویز نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان سخت ردعمل کو جنم دیا ہے، جو جزیرے کی خودمختاری پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو مسترد کرتے ہیں۔ امریکہ گرین لینڈ کو روس اور چین کی جانب سے ممکنہ خطرات کے خلاف دفاعی حکمت عملی کے لیے ناگزیر قرار دے رہا ہے۔
خودمختاری پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کا واضح مؤقف
ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے جزیرے کی خودمختاری سے دستبردار نہیں ہوں گی۔ ان کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ کی حیثیت غیر متزلزل ہے اور یہ کسی بھی بیرونی ملک کے ساتھ تبادلے یا فروخت کا موضوع نہیں بن سکتا۔ اس واضح انکار نے واشنگٹن کی جانب سے اس جزیرے کو حاصل کرنے کی کوششوں کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
روس اور چین سے تحفظ کی امریکی دلیل
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ کی ضرورت روس اور چین کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ گرین لینڈ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی روسی اور چینی عسکری سرگرمیوں کے پیش نظر، گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول یا مضبوط فوجی موجودگی ناگزیر ہے۔
فوجی اڈوں اور دستوں میں اضافے کا امکان
امریکی حکام کے مطابق، صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے اور مزید فوجی اڈے قائم کرنے کے امکان کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ اقدام آرکٹک خطے میں امریکہ کی عسکری موجودگی کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد خطے میں امریکی دفاعی صلاحیتوں کو وسعت دینا ہے۔
معاہدے تک پہنچنے کے لیے دباؤ
صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ جب تک گرین لینڈ کے حوالے سے کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پاتا، اس وقت تک تجارتی یا دیگر نوعیت کے دباؤ برقرار رہ سکتے ہیں۔ ان کا مقصد جلد از جلد ایک ایسا فریم ورک تشکیل دینا ہے جو امریکی دفاعی ضروریات کو پورا کر سکے اور اس اہم خطے میں امریکہ کی طویل مدتی حکمت عملی کو یقینی بنائے۔

