منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةUncategorizedکیلیفورنیا کے ٹیکس منصوبے کی وجہ سے سلیکون ویلی کی نقل مکانی...

کیلیفورنیا کے ٹیکس منصوبے کی وجہ سے سلیکون ویلی کی نقل مکانی کا اصل سبب

کیلیفورنیا سے ارب پتیوں کے اخراج کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹس نے عوام میں کافی الجھن پیدا کی ہے۔ تاہم، اس نقل مکانی کے پیچھے اصل وجوہات وہ 5 فیصد کی ٹیکس شرح نہیں بلکہ ریاست کی جانب سے تجویز کردہ نئی ویلتھ ٹیکس ہے۔

پروپوزڈ ویلتھ ٹیکس کی تفصیلات

نئی یارک پوسٹ کے مطابق، اس ویلتھ ٹیکس کا اطلاق اس وقت ہوگا جب بانیوں کے پاس موجود ووٹنگ شیئرز پر ٹیکس لگایا جائے، نہ کہ اُن کے حقیقی ایکویٹی کی مالیت پر۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی کے اندرونی کنٹرول اور فیصلہ سازی کے حق رکھنے والے شیئرز پر ہی ٹیکس عائد ہوگا، جو کہ اکثر بانیوں کے پاس زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

متاثرین اور ردعمل

ٹیک انڈسٹری کے نمایاں شخصیات، جیسے کہ گوگل کے بانی لاری پیج، اس ٹیکس کے تحت تقریباً 3 فیصد ووٹنگ شیئرز کے مالک ہیں۔ اگر یہ ٹیکس نافذ ہوا تو ان کی مالیاتی ذمہ داری میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے سلیکون ویلی کے کئی ٹیک کمپنیوں کے سی ای او اور بانیوں نے کیلیفورنیا سے باہر منتقل ہونے پر غور شروع کر دیا ہے۔

ٹیک کرنچ کی رپورٹ

ٹیک کرنچ کے مطابق، اس ٹیکس کی تجویز نے سلیکون ویلی کے اندرونی حلقوں میں بےچینی بڑھا دی ہے۔ متعدد ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاروں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اگر یہ ٹیکس نافذ ہوا تو وہ ریاست کے بجائے دیگر ریاستوں یا حتیٰ کہ بیرون ملک سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔

نتیجتاً، کیلیفورنیا کی حکومتی پالیسیوں پر دوبارہ غور کرنے اور ٹیک انڈسٹری کے لیے موزوں ماحول فراہم کرنے کی ضرورت واضح ہو گئی ہے، ورنہ اس ریاست کو اپنی سب سے بڑی اقتصادی طاقت، یعنی سلیکون ویلی، سے ہاتھ دھونے کا خطرہ ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں